عرب امارات کا سرمایہ کارو باصلاحیت افراد کوشہریت دینے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

خلیجی ملک متحدہ عرب امارات میں حکام نے نئی قانونی اصلاحات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت اب غیر ملکی افراد کو بھی اماراتی شہریت مل سکے گی۔

متحدہ عرب امارات میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن آباد ہیں جو اپنے ہنر کی بنا پر یہاں نوکریاں یا کاروبار کر رہے ہیں۔ تاہم غیر ملکی شہریوں کے لیے مستقل رہائش یا شہریت ملنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو اپنی نوکریاں یا کاروبار ختم ہونے کی صورت میں اپنے ملک لوٹنا پڑتا ہے۔

لیکن اب سنیچر کو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اعلان کیا کہ سرمایہ کار، خاص ہنر رکھنے والے افراد اور پیشہ ور لوگوں کو اماراتی شہریت دی جا سکے گی۔

محمد بن راشد المکتوم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں ‘سائنسدان، ڈاکٹر، انجینیئر، فنکار اور ان کے خاندان شامل ہوں گے۔‘

ٹویٹ میں انھوں نے زور دیا ہے کہ یہ سہولت ٹیلنٹ (خاص صلاحیت) رکھنے والوں کے لیے ہوگی۔

‘اس کا مقصد ایسے ہنر والے افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جو ہمارے ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔’

ایک الگ ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو اماراتی شہریت کے لیے اہل ہوں گے انھیں ملک کی کابینہ، مقامی عدالتیں اور ایگزیکٹو کونسل نامزد کریں گی۔

‘قانون کے تحت اماراتی پاسپورٹ حاصل کرنے والے افراد اپنی موجودہ شہریت بھی رکھ سکیں گے۔’

اس کا مطلب ہے کہ متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کرنے کے لیے پرانی شہریت چھوڑنے کی شرط نہیں رکھی گئی۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر کے ٹویٹ کے ردعمل میں بہت سے لوگ اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2019 میں خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے طویل مدتی ویزا سکیم کے تحت دس سالہ رہائشی کارڈ ’گولڈن ویزا‘ کا اعلان کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بتایا تھا کہ: ‘ہم نے سرمایہ کاروں، انتہائی قابل ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنسدانوں اور فنکاروں کو مستقل رہائش دینے کے لئے گولڈن کارڈ اسکیم لانچ کیا ہے۔’

اس ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو پہلے دور میں ‘گولڈن کارڈ’ جاری کیا جائے گا’ جن کا تعلق 70 ممالک سے ہوگا۔‘

ماہرین کے مطابق گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیون کے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment