غریب ملکوں کو کرونا ویکسین کی2 ارب خوراکیں فراہم کی جائینگی،عالمی ادارہ صحت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی سرپرستی میں کام کرنے والے ادارے کوویکس نے کہا ہے کہ اس نے غریب ملکوں کو کرونا وائرس سے بچائو کی ویکسین فراہم کرنے کے لیے چھ ارب ڈالر کا فنڈ اکھٹا کر لیا ہے اور ویکسین کی دو ارب خوراکوں کا آرڈر دے دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین کی مزید ایک ارب خوراکیں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ادارہ یہ ویکسینز غریب اور کم آمدنی کے ممالک میں صحت عامہ کے کارکنوں کو فراہم کرے گا تاکہ وہ عالمی وبا سے محفوظ رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔

اگرچہ چین، امریکہ، اسرائیل اور دوسرے ملکوں کو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو خدشہ ہے کہ ویکسین کے اسٹاکس کی تعداد میں جس رفتار سے کمی ہو رہی ہے، اس کے پیش نظر ہو سکتا ہے کہ کم یا درمیانی آمدنی رکھنے والے 92 ملکوں کے ہیلتھ ورکرز کے لئے کوویکس پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں ویکسین دستیاب نہ ہو سکے۔

پیر کے روز عالمی ادارہ صحت نے ویکسین بنانے والوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ غریب ملکوں کے لئے ویکسین کے اس کے پروگرام کوویکس کے لئے کویڈ 19 سے بچاو¿ کے ٹیکے فراہم کریں۔

ڈبلیو ایچ او کے سینئیر ایڈوائزر بروس ایلوارڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم فروری میں ان ملکوں میں ویکسی نیشن کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ سے زیادہ ملکوں میں ویکسین پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم یہ سب کام تنہا نہیں کر سکتے۔ ہمیں ویکسین بنانے والوں کا اور اس سلسلے میں مالی معاونت فراہم کرنے والوں کا تعاون درکار ہے۔

اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس یہ کہہ چکے ہیں کہ ویکسین کے کلیدی سپلائرز کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ہمارے پاس اس یقین دہانی کے لئے ضروری ڈیٹا موجود ہو کہ ویکسین لگانے کا عمل تحفظ اور کوالٹی کے اعتبار سے ہر معیار پر پورا اترتا ہو۔

40 سے زیادہ ملکوں میں کرونا سے بچاو¿ کی ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جہاں فائزر، بائیواین ٹیک، موڈرنا، ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ساتھ چین اور روس کی تیار کردہ ویکیسنز دی جا رہی ہیں۔

ایلورڈ کا کہنا ہے کہ یہ تمام ممالک امیر اور متوسط آمدنی کے حامل ہیں۔ جب کہ ہم ان غریب ملکوں کے لیے ویکسین حاصل کر رہے ہیں جو اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

Share This Article
Leave a Comment