سعودیہ قطر کیلئے اپنے بری و بحری راستے دوبارہ کھول رہا ہے، کویت

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

کویت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب قطر کے لیے اپنے بری اور بحری راستے دوبارہ کھول رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعے کے خاتمے کی جانب اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

کویت کا کہنا ہے کہ اس تنازع کی وجہ سے قطر بہت سے ہمسایہ خلیجی ممالک کے خلاف کھڑا ہوا تھا۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت منگل یعنی آج سعودی عرب میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے پہلے سامنے آئی ہے۔

ایک امریکی افسر کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کو ختم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر کے مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر اس سے تعلقات ختم کرتے ہوئے قطر کے آگے کئی مطالبات رکھے تھے۔

قطر ایک چھوٹی لیکن بہت مالدار خلیجی ریاست ہے اس نے ہمیشہ اسلامی جنگجوو¿ں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینک گارڈنر کے مطابق قطر پر سے پابندیاں ہٹانے میں کئی مہینوں کے صبر، بہت محنت سے کی گئی سفارتکاری جس میں زئادہ کردار کویت کا رہا شامل رہی مگر ٹرمپ کی صدارت کی مدت کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہیں وائٹ ہاو¿س کا بھی کردار بڑھا۔

وہ کہتے ہیں کہ قطری خلیجی عرب ہمسائیوں کی جانب سے پیٹھ میں چھرا گھونپے جانے کو وہ جلد معاف نہیں کریں گے اور نہ ہی بھول پائیں گے۔ ساڑھے تین سال کی بندش قطری معیشت کو بہت مہنگی پڑی اور یہ خلیج اتحاد پر بھی ایک کاری ضرب بھی۔

لیکن متحدہ عرب امارات کو قطر کے رویے میں تبدیلی پر شبہہ ہے۔ اگرچہ قطر دہشت گردوں کی معاونت کے الزامات سے انکار کرتا ہے اور اس سے کہ اس نے غزہ، لیبیا یا کہیں بھی کی سیاسی اسلامی موومنٹ کو مدد دی۔ خاص طور پراخوان المسلمین جسے متحدہ عرب امارات اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

اس دوران اس پابندی نے اگر کچھ کیا تو وہ یہ کہ اس نے قطر کو سعودی عرب کے نظریاتی دشمنوں ترکی اور ایران کے قریب کر دیا۔

اس خبر کا اعلان کویت کے وزیر خارجہ احمد نصر الصباح نے ٹی وی پر کیا۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسٹین عشر کی رپورٹ کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت نے ابھی حال ہی میں تھوڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کے کچھ مہینوں تک ’فیس سیونگ` کے لیے کسی قرارداد کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے تھے جس نے اس عمل میں شامل سبھی ممالک کو نقصان پہنچایا۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی انتظامیہ کا واضح کردار نظر آتا ہے۔ سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر منگل کو قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شامل ہوں گے۔

قطر کے امیر تمیم بن حماد التھانی نے سعودی بادشاہ، شاہ سلمان کی جانب جی سی سی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا تھا۔

بی بی سی کی بین الاقوامی امور کی چیف نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کی رپورٹ کے مطابق جی سی سی کا اجلاس منعقد کرنے والے میں شامل ایک ذریعے سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے قطر کے لیے اپنے فضائی، بحری اور بری راستے کھولنے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اقدام ہے تاکہ اجلاس میں قطری امیر کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

سنہ 2017 میں جب قطر پر یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں تو قطری امیر نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی ملک کا سفر نہیں کریں گے جس نے قطری شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ یہ اب تک ہمارے لیے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے اور بہترین دوست بن جائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوں گے۔

اس خبر کے سامنے آنے سے پہلے ہی ذرائع ابلاغ میں یہ اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے تاریخی مقام ال اولہ میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں اجلاس کے نتیجے میں خطے کے ممالک میں تین سال سے جاری تناو¿ کے بعد اب قریبی تعاون بڑھ سکے گا۔

جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 2017 کے وسط سے قطر کے ساتھ سفارتی ، تجارتی اور فضائی تعلقات منقطع ہونے کے بعد اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور کویت نے مل کر کوشش کی ہے۔

چاروں ممالک نے دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ قطر نے جو خطے میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے کی میزبانی کرتا ہے، ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد اس کی سالمیت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔

ان ممالک نے تعلقات کی بحالی کے لیے قطر کے سامنے 13 مطالبات رکھے تھے جن میں الجزیرہ چینل کو بند کرنا، ایک ترک اڈہ خالی کروانا، اور اخوان المسلمین سے تعلقات کو ختم کرنا شامل ہے۔

قطر نے بار بار کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے نے سعودی شوریٰ کونسل کے سپیکر عبداللہ بن محمد الشیخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ خلیجی ممالک کا اتحاد اور جی سی سی کو برقرار رکھنا سعودی بادشاہ شاہ سلمان کی ترجیجات میں شامل ہے۔’

سعودی شوریٰ کونسل کے سپیکر نے کہا ’عشروں پہلے جب جی سی سی کے منفرد اتحاد کا تجربہ شروع ہوا تو سعودی عرب اس کی جائے پیدائش تھی اور اس نے ہر قدم پر ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کی حمایت کی۔‘

سعودی اہلکار نے کہا کہ خطے اور عالمی حالات کے تناظر میں خلیجی ممالک میں ’اتحاد اور یگانگت کی اشد ضرورت ہے۔‘

سعودی اہلکار نے خبردار کیا کہ ’بیرونی طاقتیں کے خطے کے معاملات میں مداخلت کر کے خلیجی ممالک کے قریبی اور تاریخی تعلقات کو خراب کرنے کے در پے ہیں۔‘

سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط نے جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نائف الہجراف کے حوالے سے لکھا کہ جی سی سی کی میٹنگ میں ممبر ممالک کے مابین اقتصادی تعاون ایجنڈے کا سب سے اہم موضوع ہو گا۔

سیکرٹری جنرل جی سی سی نے ماضی میں ہونے والے معاہدوں کا ذکر کیا جن میں خلیج کی سنگل مارکیٹ، کسٹم یونین، الیکٹرک گرِڈ کو ملانا شامل ہیں۔

اخبار الشرق الاوسط نے لکھا کہ جنوری میں عمان کے سلطان قابوس کی موت کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا اجلاس ہو گا جس میں کونسل کے بانی اراکین میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہوگا۔

سرکاری تحویل میں چلنے والے ٹی وی چینل الاخباریہ نے اس تنظیم کے بنیاد رکھنے کی تمام وجوہات اور اس کو پیش آنے والے بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔

سعودی عرب کے العریبیہ ٹی وی ال اولہ میں کانفرنس کے لیے ہونے والی تیاریاں اور خلیجی ممالک کے سربراہان کو اجلاس میں شرکت کے لیے آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے روزنامہ اوکاز میں شائع ہونے والے ایک کالم میں لکھا گیا ہے کہ تمام اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ اس اجلاس کے انعقاد سے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کالم میں پیشنگوئی کی گئی کہ اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں امریکہ کی واپسی بھی اس اجلاس کی اولین ترجیجات میں ہو گی۔

اس کالم میں مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ ایسا خطرہ ہے جو خطے کے تمام ممالک کے لیے یکساں ہے، اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خلیجی ممالک مل کر سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی اہمیت پر زور دیں کہ اس معاملے میں ہونے والی بات چیت میں انھیں بھی نمائندگی دی جائے۔‘

المدینہ اخبار میں شائع ہونے والے ایک کالم میں ایسے رہنماو¿ں کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو ’ماضی میں بدامنی اور دہشتگردی کو ہوا دے کر خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔‘

المدینہ اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں لکھا گیا ہے کہ ’سعودی عرب نے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کیا ہے اور ہمیشہ اپنے بھائیوں کی غلطیوں کو نظر انداز کر کے عرب اور اسلامی دنیا میں ایک بڑے بھائی کا کردار نبھایا ہے۔‘

الاریاض اخبار نے خلیجی کونسل کو درپیش پانچ بڑے چیلنجوں کا ذکر کیا ہے، جن میں تیل کی قیمتیں، جغرافیائی عدم توازن، علاقائی عدم استحکام اور ترکی اور ایران کی توسیع پسندانہ عزائم اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment