ایران میں خواتین کیخلاف تشدد سے نمٹنے کے بل کی منظوری دیدی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ایران کے صدر حسن روحانی کی حکومت نے خواتین کو گھریلو اور تمام دیگر اقسام کے تشدد سے تحفظ کے دیرینہ بل کی منظوری دے دی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں وزرا نے تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ، وقار اور سلامتی کے نام سے متعلق قانونی مسودے کی منظوری دی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ بل سابق صدر محمود احمدی نڑاد کی انتظامیہ نے تیار کیا تھا۔

اب پارلیمنٹ میں بل پر نظر ثانی ہوگی جہاں سے منظوری متوقع ہے۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فقہا اور مذہبی ماہرین پر مشتمل گارجین کونسل بل کا جائزہ لے کر منظوری دے گی۔

خواتین اور خاندانی امور کی نائب صدر معصومہ ایبٹیکر نے ایک ٹویٹ میں 58-آرٹیکل بل کو خواتین کے لیے ’قابل قدر‘ قرار دیا۔

گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کے گروپ ‘ہیومن رائٹس واچ’ نے کہا تھا کہ اس بل میں متعدد مثبت دفعات شامل ہیں جن میں حکومت کے مختلف ادارے اور خواتین کے معاملات میں دیگر اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیویارک میں موجود ایک تنظیم نے کہا کہ یہ بل ’بین الاقوامی معیار سے کم ہے‘ کیونکہ اس سے صنف پر مبنی تشدد کی کچھ شکلوں کو جرم نہیں قرار دیا گیا، جس میں ازدواجی عصمت دری اور نابالغ بچوں کی شادی بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے دوران ایران میں متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جس کے بعد حکومت نے اس بل کو حتمی شکل دی۔

مئی 2020 کے آخر میں والد نے اپنی 14 سالہ بیٹی کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کردیا تھا۔

بعد ازاں لڑکی کے والد کو 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ستمبر میں کئی دہائیوں پرانے جنسی واقعات کا انکشاف ہوا جب ایرانی خواتین نے سوشل میڈیا پر #MeToo تحریک کا سہارا لیا۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment