بلوچ قومی رہنما بانک کریمہ بلوچ کے کینڈا میں پاکستانی خفیہ اداروں ہونے والے قتل کے خلاف جہاں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے،وہیں خضدار،، پنجگور و بارکھان میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔
خضدار، بلوچ یکجہتی کمیٹی خضدار کی رہنماوں ندا بلوچ،زکیہ بلوچ،تبسم بلوچ، خالدہ بلوچ اور ایڈوکیٹ فوزیہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کو پچھلے کئی عشروں سے اپنے ہی باسیوں کے لئے جہنم بنا دیا گیا ہے۔ آئے روز بلوچستان کے بچے کسی معلوم اَن دیکھے اڑدھے کے ہاتھوں زندہ ہڑپ کیے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس بے سر و پا طاقت کو روکنے والا کوئی بھی نہیں اور نہ افتادگان خاک کی آواز سننے اور بننے کو کوئی تیار ہے۔
بلوچ وطن کے باسیوں کو کبھی اغوا کرکے ان کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے تو کبھی گھروں پر شیلنگ کرکے گھروں کو مسمار اور زندہ بلوچوں کو درگور کیاجاتا ہے۔ بلوچ وطن کے تمام خوبصورت اور قابل ذہنوں کو آسانی کے ساتھ ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
اس ظلم و جبر کا مقصد بلوچ نسل کشی اور بلوچ گل زمین پر استحصال کو جاری رکھنے کے لئے خوف کا ماحول بنا رکھنا ہے۔بلوچ نہ اپنے دیس میں محفوظ ہیں نہ ہی وِدیش میں۔ اگر اپنے دیس میں ہوں تو پروفیسر رزاق بلوچ، لمہ ملک ناز اور کلثوم کی شکل میں بے دردی کے ساتھ قتل کیے جاتے ہیں اور اگر وہ باہر کہیں بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوں تو وہاں بھی طاقتور اور ظالم قوتیں انہیں مکاری اور سفاکی کے ساتھ قتل کرکے ان کی شہادت کو حادثہ یا پھر خودکشی ثابت کرنے کی بے تکی کوشش کر ڈالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانک کریمہ بلوچ بدنصیب بلوچ راج کی اْن بیٹیوں میں سے ایک ہیں۔ جو بلوچ پر ہونے والے ظلم و جبر کو محسوس کرتی تھیں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنے کی سکت رکھتی تھیں۔
بانک کریمہ بلوچ ایک پرامن بلوچ طلباء تنظیم کی رہنما رہ چکی تھی۔ آپ نہ صرف ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتیں بلکہ بلوچ راج کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے آپکی نمایاں خدمات تھیں۔ آپ وہ پہلی بلوچ خاتون بھی ہیں جنھوں نے باقاعدہ کسی سیاسی پلیٹ فارم سے بلوچ حقوق کی آواز بنیں۔ آپ کا جرم مظلوم بلوچ قوم کی آواز بننا تھا۔ اسی لئے معلوم نامعلوم قوتوں کی جانب سے جب آپ بلوچ وطن میں موجود تھیں تو آپکو دھمکیاں ملتی رہیں اور آپ کے گھر پر حملے ہوتے رہے۔ جب آپ بلوچ وطن سے دور بلوچ آواز بنے تو بلوچ دشمن قوتوں نے آپکو وہاں بھی اپنے عتاب کا شکار بنا دیا۔ گذشتہ کچھ دن پہلے اس بلوچ آواز کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے اغواہ کیا گیا اور ایک دن بعد مظلوم بلوچ قوم کی آواز کی لاش پھینک دی گئی۔ اس حوالے سے ہم خضدار کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آئیں اس جبر و دہشت کے خلاف ہماری آواز بنیں کیونکہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ساجد حسین، لمہ ملک ناز اور بانک کریمہ کی طرح اگلی باری ہم سب کی ہے۔ اس جبر و بربریت کے خلاف بولیں اپنے آنے والے کل کیلیے آواز اٹھا?یں تاکہ پھر کوئی اور بلوچ اس طرح کے بیہمانہ قتل و جبر کا شکار نہ ہو۔
انہی انسان دشمن و بلوچ دشمن قوتوں کے خلاف ا 27 دسمبر بروز اتوار صبح 11 بجے خضدار کے مظلوم بلوچ اپنا احتجاج ریکارڈ کرائینگے۔ ہم آپ کے توسط سے خضدار کے تمام بلوچ بیٹوں اور بیٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آواز کے ساتھ ہم آواز ہو کر اس ظلم و بربریت کو للکاریں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بارکھان و پنجگور کی جانب سے بانک کریمہ کے قتل کے خلاف کل احتجاج کے لیے گھر گھر پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔