کریمہ بلوچ قتل: گوادر،تربت،پسنی،سوراب،اسلام آباد مظاہرئے و ریلیاں

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

کریمہ بلوچ کی کینڈا میں قتل کے بعد احتجاجی ریلیوں و مظاہرؤں کا سلسلہ جاری ہے، جمعہ کے روز بھی اسی سلسلے میں گوادر،پسنی،تربت،سوراب میں مظاہرئے کیے گئے۔

ضلع کیچ کے شہر تربت میں اپنی تاریخ کا ایک بہت بڑا ریلی و مظاہرہ کیا گیا۔کئی سالوں کے بعد تربت آذادی کے نعربوں سے گونج اٹھا،۔

شہید کریمہ بلوچ کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ریلی میں نوجوانوں نے آذادی کے فلک شگاف نعروں سے تربت کے در و دیوار لرزا دئیے۔

بی ایس او آزاد کے سابقہ چیئر پرسن بانک کریمہ بلوچ کے کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قتل کے خلاف جمعہ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام تربت میں ریلی اور شہید فدا چوک پر مظاہرہ کیا گیا۔

آل پارٹیز کیچ، بی ایس او اور تربت سول سوسائٹی نے ریلی کی حمایت کی تھی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ریلی کا آغاز پبلک لائبریری لائکالج سے کیا گیا جس میں خواتین اور مردوں سمیت بچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ریلی کے شرکاء نے کریمہ بلوچ کے پوسٹرز اور تصاویر کے ساتھ بینرز اٹھائے کریمہ بلوچ کے قاتلوں کی نشاندہی اور گرفتاری سمیت ان کو انصاف فراہمی کے لیے سخت نعرہ بازی کی۔ ریلی ڈگری کالج روڈ سے گزر کر تھرمامیٹر چوک پہنچا اور یہاں سے میں روڈ تک ہوتا ہوا مرکزی شہید فدا چوک پر جلسہ کی شکل اختیار کرگیا۔

شہید فدا چوک پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ستی بلوچ، سہیلی بلوچ، صباء بلوچ، حانی بلوچ نے کہا کہ بلوچ کل اپنی سرزمین پر غیر محفوظ تھے آج وہ پوری دنیا میں غیر محفوظ ہوگئے ہیں، دنیا میں انصاف، برابری اور انسانیت محض ڈھکوسلے نعرے ہیں کوئی ملک اپنے مفادات کے غیر انسانیت کا علم بردار نہیں ہے، کنیڈا جیسی ملک میں بلوچ لیڈر کا بے رحمانہ قتل اور پولیس کی طرف سے دورا غیر کریمنل کیس کا اسٹیٹ منٹ ثابت کرتی ہے کہ کریمہ بلوچ کی شہادت کے پیچھے ایک سازش ہے جسے جان بوجھ کر دبایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ نہ ہم سویڈن پولیس کی بلوچ صحافی ساجد حسین کے قتل پر تفتیش سے مطمئن ہوئے اور نہ ہی بانک کریمہ بلوچ کی شہادت پر کنیڈین پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ کنیڈین حکومت کریمہ بلوچ کی شہادت کے واقعہ کو ایک معمولی جرم نہ سمجھے بلکہ کریمہ بلوچ قوم کی لیڈر تھی اس کے قتل کی اعلی سطحی تفتیش بین الاقوامی اصولوں کے تحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ساجد حسین اور کریمہ بلوچ کے قاتل ایک ہے، بلوچ ان سے بخوبی واقف ہیں مگر دنیا کو بھی جان لینا چاہیے کہ کون سی قوتیں بلوچوں کے پیچھے بلوچستان سے باہر یورپی ممالک میں پڑے ہوئے ہیں، سویڈن میں ساجد حسین کی شہادت سے پہلے دبئی میں راشد حسین کی گرفتاری اور اب بلوچ قومی لیڈر کریمہ بلوچ کا قتل ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان سے باہر بھی دنیا بلوچوں کے لیے تنگ کردی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور کنیڈا کی حکومت کریمہ بلوچ کے قتل کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیق و تفتیش کریں اور بیرونی ممالک میں مقیم بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ آل پارٹیز کیچ کے کنوینر غلام یاسین بلوچ نے کہا کہ شریعت کے مطابق جس کا قاتل نامعلوم ہے اس کا قاتل ریاست ہے اس لیے کنیڈا کی حکومت کریمہ بلوچ کے قاتلوں سراغ لگائے یا یہ زمہ داری خود اٹھائے، انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق کریمہ بلوچ کے قتل کی عالمی سطح پر تحقیق کرکے قاتلوں کا سراغ لگایا جائے تاکہ بلوچ مطمئن رہیں۔جو ممالک لوگوں کو اسائلم دیتی ہیں وہ ان کے تحفظ کی زمہ داری بھی اٹھائیں کیوں کہ صرف اسائلم دینا کسی مسلے کا حل نہیں بلکہ زندگی بچانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڈ لگا کر انسانی آبادی کو باڈ میں بند رکھنے کا عمل جدید دنیا کا انوکھا واقعہ ہے،ال پارٹیز کیچ اس عمل کی سخت مذمت کے ساتھ باڈ لگانے کے سلسلے کو فوری روکنے کا مطالبہ کرتی ہے کیوں کہ یہ عمل سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور یہاں بسنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا باعث بنے گا۔

تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست اور بی ایس او کے ضلعی صدر کریم شمبے نے کہا کہ کریمہ بلوچ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے انسانوں کو قتل کرنے سے ان کے سوچ و فکر کو قتل نہیں کیا جاسکتا جن قوتوں نے یہ سوچ کر کریمہ بلوچ کو قتل کیا کہ وہ بلوچوں کی آواز دبانے میں کامیاب ہوں گے تو یہ ان کی بھول ہے کیوں کہ ایسے گھناؤنے منصوبوں سے قوموں کا جوش مذید ابھرے گا،۔ کوچ ایک بہادر اور نڈر قوم ہے اسے قتل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا یا جاسکتا۔

اسلام آباد، گوادر، پسنی اور سوراب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں کریمہ بلوچ کی مبینہ قتل کے خلاف لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا۔

ریلی اور مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ کریمہ کی موت نے بلوچ سماج کو بیدار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندہ کریمہ بلوچستان کے خواتین کو قومی جدوجہد میں شمولیت کا درس دے کر چلی گئی آج بلوچستان کی سڑکوں پر ہزاروں کریمہ پیدا ہوئے ہیں۔

ریلی کے شرکاء نے کہا کہ آج ترقی کے نام پر ہمیں باڑ لگا کر بلوچستان سے جدا کیا جارہا ہے لیکن گوادر کو بلوچستان سے جدا کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔بعد ازاں ں ریلی کے شرکاء نے شمعیں روشن کیے اور کریمہ بلوچ کو خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اپیل پر کریمہ بلوچ کی مبینہ قتل کے خلاف بلوچ طلباء طالبات کے مظاہرے اور دھرنے میں عوامی ورکز پارٹی، ہیومن ڈیموکریٹ موومنٹ سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندوں نے شرکت کرکے اظہار یکجہتی کیا۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے بانک کریمہ بلوچ کی جدوجہد کو مظلوم اقوام کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔
مقررین نے اپوزیشن جماعتوں کی اتحاد پی ڈی ایم اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچ کے خون پر یہ جماعتیں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا بلوچ کا خون سرکار کے ساتھ اپوزیشن کو بھی نظر نہیں آتا، انہوں نے کہا بلوچ کہاں جائے؟

انہوں نے کہا کہ کریمہ مزاحمت کی علامت ہے جب بلوچستان میں بلوچ مردوں کی سیاست شجر ممنوعہ قرار دے چکی تھی تو کریمہ نے بلوچ طلباء کی قیادت کی،اسلام آباد میں مظاہرین نے کینیڈا حکومت سے صاف و شفاف طریقے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان کے شہروں پسنی اور سوراب میں بھی کریمہ بلوچ کی مبینہ قتل کے خلاف لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر مارچ کیا اور سانحے کو ریاستی قتل قرار دیا۔پریس کلب سوراب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں سوراب کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء سمیت ہر مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر مختلف قوم پرست جماعتوں، طلباء تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بانک کریمہ بلوچ کی مسلسل جدوجہد کوسلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانک کریمہ بلوچ کی ہمت حوصلہ اور جہد مسلسل نے آج سوراب سمیت بلوچستان کو بیدار کیا ہے۔
سوراب اور پسنی میں مظاہرین نے کینڈین حکومت اور ٹورنٹو پولیس پر بانک کریمہ بلوچ کی مبینہ قتل پر صاف شفاف انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی مبینہ قتل کے خلاف اس وقت بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگوں میں غم غصہ پایا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment