کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے پر ہر صورت عمل ہوگا،جسٹس اطہر من اللہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کلبھوشن کیس میں فیئر ٹرائل کو یقینی بنائیں، کیس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پرہرصورت عمل ہوگا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو وکیل فراہم کرنے کی وزارت قانون کی درخواست پرسماعت 3 رکنی لارجر بینچ نےکی۔

وکیل بھارتی ہائی کمیشن نے بتایا کہ دہلی میں وزارت خارجہ کی میٹنگز جاری ہیں، ڈپٹی ہائی کمشنر وکیل کی خدمات لینے کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں، بھارت کو اس متعلق کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے 3 ہفتےکا وقت دیا جائے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے وکیل کے بغیر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پہلے وکیل مقرر کرے، وکیل عدالت کے سامنے پیش ہو کر کسی آفیشل کے پیش ہونے کی استدعا کرسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھاکہ پاکستان بھارت کو کلبھوشن جادھو تک تیسری قونصلر رسائی دینے کے لیے تیار ہے، آئندہ سماعت پر عدالت کو بتایا جائے کہ بھارت وکیل کی خدمات لینا چاہتا ہے یا نہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کلبھوشن کیس میں فیئر ٹرائل کو یقینی بنائیں،کیس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پر ہرصورت عمل ہوگا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نےکیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment