چمن بارڈر پرفورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، 6 زخمی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں افغان سرحد پر چمن کے قریب باب دوستی پر تاجروں اور سیکیورٹی عملے کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دیگر 6 زخمی ہوگئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ اپنے سامان کے ہمراہ پیدل سڑک عبور کرنے والے تاجروں اور کچھ سرحدی حکام کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہوئی جب کچھ وجوہات کی بنا پر ان کے لوگوں کو سرحد عبور کرنے سے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے تاجر باب دوستی پر جمع ہوگئے اور سیکیورٹی عملے پر دروازہ کھولنے کے لیے زور دیا لیکن فورسز نے انکار کردیاجس پرتاجروں نے گیٹ کے قریب ٹائر جلائے اور احتجاج کیاجس پرجس پر فورسز نےنہتے تاجروں پرفائتو¿رنگ کردی۔

جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ زخمی افراد کو فوری طور پر چمن کے ضلعی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا۔

ادھر واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے چمن کے اسسٹنٹ کمشنر زکااللہ درانی نے بتایا کہ 4 زخمیوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد چمن کے سرحدی علاقے میں سیکیورٹی کو بڑھادیا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی چمن بارڈر پر تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

رواں سال جولائی کے مہینے میں چمن پر باب دوستی بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم از کم 3 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جب کہ پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment