کورونا باعث مہاجرین کی صورتحال بدتر ہو رہی ہے،اقوام متحدہ

0
223

مہاجرین کے عالمی دن کے موقعے پر اقوام متحدہ کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمگیر وبا سے دنیا بھر میں مہاجرین کے مسائل مزید بدتر ہوں گے۔ لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد کو صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ لوگ جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

ادارے کے اندازے کے مطابق، انہتر اعشاریہ پانچ ملین لوگ تنازعات اور پر تشدد حالات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تیس ملین مہاجرین دوسرے ایسے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جن حالات میں مہاجرین رہ رہے ہیں، ان کی وجہ سے ان کی صحت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور یہ کرونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ چھت، پانی، خوراک اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان مہاجر کیمپوں میں کرونا کی وبا پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، جس پر عالمی ادارہ صحت کو سخت تشویش ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، فلیپو گرانڈی اس اندازے سے متفق ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے مہاجرین کیمپوں میں نہیں رہتے اور جن مقامی ا?بادیوں میں یہ مقیم ہیں وہ پہلے ہی کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔

لاطینی امریکہ کے سترہ اٹھارہ ملکوں میں وینزی ویلا کے چالیس لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسی طرح افریقہ میں مہاجرین کی بہت بڑی تعداد ہے۔ پاکستان اور ایران میں لاکھوں مہاجرین ہیں۔ ان سب جگہوں پر جو حالات ہیں، ان کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

گرانڈی نے کہا ہے کہ انھیں اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ کرونا وبا نے ان سے ان کا روزگار بھی چھین لیا ہے۔ لاک ڈاون اور دوسری احتیاطی پابندیوں کی وجہ سے ان کی ا?مدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں اور یہ اس قابل نہیں کہ اپنا علاج معالجہ کر وا سکیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے مزید کہا کہ کرونا وائرس یہ نہیں دیکھتا کہ کون مقامی ہے اور مہاجر یا کون زبردستی بے گھر ہوا ہے۔ یہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here