ایم این اے علی وزیر کو مزید جیل میں رکھنے کا حکم دیدیا گیا

0
285

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور این ایم اے علی وزیرکو مزید جیل میں رکھنے کا حکم دیدیا گیا۔

گذشتہ روز14 فروری کو ایم این اے علی وزیر کے پیشی کے بعد عدالت نے 15 فروری تک فیصلہ محفوظ کرلیا تھا لیکن آج انہیں ایک اور کیس میں مزید جیل میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ 3 دنوں سے سندھ اسمبلی کے سامنے پی ٹی ایم کے زیر اہتمام علی وزیر کے رہائی کیلئے دھرنا جاری ہے جس میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین بھی شامل ہیں۔

دھرنامنتظمین کے مطابق دھرنا تب تک جاری رئیگا جب تک ایم این اے علی وزیر کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 16 دسمبر 2020ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔

واضع رہے کہاکہ گذشتہ سال کے نومبر کے آخر میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے رکن اور پشتون تحفظ موؤمنٹ کے رہنما علی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیاتھالیکن اسے رہا نہیں کیا گیا۔

اس وقت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت کی جانب سے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کو 4 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ علی وزیرکے ساتھ شریک ملزمان کو رہا کر دیا گیا تھا، لہٰذا علی وزیر کو جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ سال پارلیمنٹیرین کے ساتھ ایک اجلاس میں برملا کہا تھا کہ اگر علی وزیر ان سے معافی مانگے تو اسے رہا کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں علی وزیر نے جیل سے جنرل باجوہ کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے معافی مانگنے سے انکار کیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here