"سنگر" کے ذریعے بلوچ قوم کی آواز، سچائی اور شناخت کو زندہ رکھنے والے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت۔
بزرگ بلوچ رہنما ڈاکٹر حئی بلوچ اور سینئر قانون دان علی احمد…
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے مستونگ میں فوجی…
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین،بی این ایم کے سابق مرکزی سیکریٹری…
گوادر میں بلوچستان حق دو تحریک کا دھرنے سے خطاب کرنے پر…
دکی کے ناصر آباد کے علاقے میں تبلیغی امیر حاجی عبدالوہاب حریفال…
کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ کوئلہ کان میں حادثے کے نتیجے میں…
بلوچ بزرگ رہنمایوسف مستی خان کوگوادرسے گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ردعمل…
بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری دل مرادبلوچ نے نومبر 2021 کا تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ اس مہینے بلوچستان کے طول و عرض میں پاکستانی فوج کی بربریت و سفاکیت شدومد کے ساتھ جاری رہی۔ لگ بھگ پچاس سے زائد فوجی آپریشنوں اور چھاپوں میں پاکستانی فوج نے 65 سے زائد افراد کو حراست میں لے کرجبری لاپتہ کیا۔ 14 افرادقتل ہوئے۔ 14 میں سے پاکستانی فوج نے ایک زیرحراست شخص کوقتل، ایک سرمچار جھڑپ میں شہید اور ایک بچے کو پاکستانی فوج نے اپنی گاڑی سے کچل دیا۔ دو زیر حراست افراد کوسی ٹی ڈی نے لسبیلہ کے علاقے حب ساکران میں قتل کر دیا جنہیں ایک ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ مغربی بلوچستان میں رہائش پذیرمشرقی بلوچستان کے دو افراد کوآئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے قتل کیا۔ سات افرادکے قتل کے وجوہات سردست معلوم نہ ہوسکے۔ 6 افراد کی لاشیں برآمدہوئیں۔ گچک کے علاقے میں جاری تباہ کن آپریشن میں دیگر مظالم کے علاوہ 24 سے زائد افراد کو فوج نے حراست میں لے کر ٹارچرسیلوں میں منتقل کیا۔ انہیں کئی روز تک اذیت رسانی کے بعد رہا کر دیا گیا۔ گچک کے 24 افراد جبری افرادکے کل تعداد میں شامل نہیں۔ اس مہینے پاکستانی فوج کے ٹارچرسیلوں سے 19 افراد بازیاب ہوئے۔ دل مراد بلوچ نے کہا کولواہ کے جنوب مشرقی پہاڑی سلسلوں میں آباد ہزاروں لوگوں کو پہلے ہی اپنے آبائی علاقوں سے جبری بیدخل کرکے فوجی کیمپوں کے قرب وجوار بسنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔ نومبرکے مہینے میں انہی پہاڑی سلسلوں پر یلغار کرکے اکادکا لوگوں کو حراست میں لے کرجبری گمشدگاں کے فہرست میں اضافہ کیا گیا۔ ان میں ایک خاندان لعل بخش کا تھا جسے بچوں سمیت نامعلوم ٹارچرسیل منتقل کیا گیا جن میں ان کی بیوی اور بیٹی بھی شامل ہیں۔ انہیں اذیت کا نشانہ بنانے کے بعد ایک گھر میں قید کر لیا گیا ہے جہاں سے انہیں باہر نکلنے، بات کرنے یا کسی رشتہ دار سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ دل مراد بلوچ نے کہا موجودہ دنیا میں کوئی بھی ایسا خطہ، ریاست نہیں جہاں دن کی روشنی اور آنکھوں کے سامنے ایک ریاست کی باقاعدہ فوج انسان اور انسانی حقوق کے ساتھ ایسی کھلواڑ کر رہا ہو۔ مہذب معاشروں میں ایسی بربریت و سفاکیت کی داستانیں فلمی یا افسانوی معلومات ہوتے ہوں گے۔ اس جدید دور میں انسانوں کےساتھ قرون وسطیٰ سے بدتر مظالم روا رکھے جاتے ہیں جو آج کے دور میں جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا بلوچستان کو ایک چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ پنجگور کے وسیع علاقے گچک کے لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ راشن اور ادویات لانے کے لیے شام تک واپس گھر آنے کی ضمانت کے ساتھ فوجی کیمپ سے باقاعدہ رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے۔ مہمانوں کے لیے بھی پیشگی اجازت اور مکمل کوائف درج کروانے پڑتے ہیں۔ ذیل میں تمام واقعات روزنامچے کی صورت میں تفصیل سے درج ہیں ۔ 1 /نومبر 2021 ۔۔۔ پنجگور کے علاقے خدابادان میں چھاپہ مارکر پاکستانی فوج نے مسعود ولد مقبول احمد کوحراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا ۔ ۔۔۔ کوئٹہ کے علاقےہزار گنجی میں نامعلوم افرادنے فائرنگ کرکے خان محمد ولدسوب خان لانگو کوقتل کردیا،قتل کے محرکات معلوم نہ ہوسکے۔ ۔۔۔ کیچ کے کولواہ میں پاکستانی فوج نے اشرف ولد بائیان سکنہ کنری کولواہ کو تنزلہ بنگلہ کیمپ میں بلاکروہاں حراست میں لے کرجبری لاپتہ کردیا۔ 02 /نومبر 2021 ۔۔۔خاران میں پاکستانی فوج (ایف سی )کی گاڑی میں چینچی رکشے میں تصادم ہوا ہے۔فوج نے رکشے کے مالک حیب اللہ سیاپاد اور اس کے بھائی صاحب داد اور صلاح الدین کو ایف سی نے حراست میں لے کرکیمپ منتقل کردیا۔ ذرائع کے مطابق ان میں صلاح الدین بینائی سے محروم شخص ہے۔…
کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ…
گوادر:بلوچ قوم پرست رہنما یوسف مستی خان نے کہا کہ حق دو…
فیڈریشن آف ال پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن(فپواسا)بلوچستان چیپٹر کے صدر…
پشین میں زمین کے تنازعے پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص…
Sign in to your account