"سنگر" کے ذریعے بلوچ قوم کی آواز، سچائی اور شناخت کو زندہ رکھنے والے عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے صوبائی وزیر داخلہ کے پریس کانفرنس اور پہلے…
گوادر میں 12 جنوری کو رات دو بجے کے قریب 77 سالوں…
بلوچستان کے ضلع آواران سے پاکستانی فورسز نے ایک ضعیف العمر شخص…
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا لاپتہ قا…
بلوچستان کے علاقے ژوب میں مسلم باغ کے قریب کوئٹہ سے آنیوالی…
حق دو تحریک بلوچستان کے زیر اہتمام تربت میں جلسہ عام سے…
بلوچستان کے ضلع پنجگور اور کیچ سے پاکستانی فورسز نے سات افراد…
کراچی پریس کلب کے سامنے قائم وی بی ایم پی کے بھوک…
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مراد بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے مشکئے میں گجلی گاؤں کے تمام افراد کے گھروں کو لوٹنے کے بعد نذرآتش کردیا ہے۔ ان لوگوں گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں پاکستانی فوج نے جبری نقل مکانی کا شکار بنایا تھا۔ ان کی اکثریت کو جیبری میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کے آس پاس ایک کھلی کیمپ میں بسنے پرمجبورکردیاتھا۔ یہ لوگ ابھی تک اسی کیمپ کے پاس جھونپڑیوں میں زندگی گزارہے ہیں۔ انہوں نے کہا گجلی میں ایک سو ستر سے زائد گھرانے تھے۔ جبری نقل مکانی کے بعد ان لوگوں کے آبا دگھر، جانوروں کے باڑے، گندم کے ذخیرے سمیت دیگر اشیائے ضرورت وہاں رہ گئے تھے۔ ان لوگوں کو وہاں سے نکالنے کے بعد پاکستانی فوج نے ان کے گھروں کو ایک بڑی کیمپ میں تبدیل کر دیا۔ دو روز قبل پاکستانی فوج نے اس کیمپ کو خالی کر دیا ہے لیکن انخلا سے پہلے ایک سو ستر سے زائد لوگوں کے گھروں کے باقی ماندہ ساز و سامان کو لوٹ لیا اور تمام گھروں کو نذرآتش کردیا۔ بلوچستان میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس سے پاکستانی فوج کی درندگی اور بے رحمی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر مراد بلوچ نے کہا کہ ان گھرانوں کا ذریعہ معاش صرف بارانی زمینداری اور گلہ بانی تھا۔ اب ان سے معاش کے تمام ذرائع چھین کر فوج نے انہیں قیدی بنالیا ہے۔ اس طرح انہیں پوری زندگی فوجی کیمپ کے قرب و جوار اور اپنے آبائی زمینوں سے دور رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان فوج اور خفیہ اداروں کے غیر انسانی و غیرقانونی ٹارچر سیل…
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور حکومت بلوچستان کے درمیان مزاکرات کامیاب ہونے…
طلبا تنظیموں نے 2لاپتہ طالب علموں کی عدم بازیابی کیخلاف کوئٹہ میں…
Sign in to your account