پاکستان فوج اور خفیہ اداروں کے غیر انسانی و غیرقانونی ٹارچر سیل سے 3لاپتہ بلوچ فرزند رہا کردیئے گئے۔
اس بات کی تصدیق بلوچ لاپتہ افراد کیلئے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے سوشل میڈیا پر اپنے آ فیشل سائٹ پر کیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ 29 نومبر 2021 کو ولی آباد کوئٹہ سے لاپتہ بلال احمد،محمد اسحاق اور شیرمحمد نیچاری بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
واضع رہے کہ ان تینون نوجوانوں کے حوالے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچستان کے کٹھ پتلی مشیر داخلہ ضیالانگو سے رابطہ کیا تھا تو مشیر داخلہ نے نوجوانوں کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔
نصراللہ بلوچ نے بلال،محمداسحاق اور شیر محمد کی بازیابی میں کردار ادا کرنے پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ میر صاحب دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی میں بھی اپنا کردار ادا کرکے غمزادہ خاندانوں کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائینگے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں آئے روز ریاستی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کے جبری گمشدگی کے کیسزمیں تیزی آئی ہے۔گذشتہ ایک ہفتے سے درجن بھرسے افراد کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اٹھاکر لاپتہ کیا گیا ہے اور اسی طرح سی ٹی ڈی پولیس کی جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کے قتل کاسلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔