بلوچستان کے علاقے خضدار میں فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق خضدار کے علاقے چمروک کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عبدالباسط نامی نوجوان ہلاک ہوگیا۔
واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جبکہ لاش کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔
دوسری جانب لورالائی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا۔
گزشتہ روز لورالائی کے علاقے بائی پاس میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے نعمت اللہ سکنہ کچلاک نامی شخص کو ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے۔
نعش ہسپتال منتقل کردی گئی ۔
نعش ضروری کارروائی کے بعدورثا کے حوالے کردی گئی۔
مزید کارروائی مقامی انتظامیہ کررہی ہے۔
علاوہ ازیں بلوچ طالب علم کامریڈ فرید بلوچ کو جامعہ پنجاب کے گیٹ نمبر 4 سے لاپتہ کر دیا گیا ۔
اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف یونیورسٹیوں میں اس سے قبل بلوچ طلباء کی پروفائلنگ کی گئی اور متعدد طلباء مختلف یونیورسٹیوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے۔
بلوچ وائس فار جسٹس نے بلوچ طالب علم فرید بلوچ کی جبری اغواء کی شدید الفاظ سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرصہ دراز سے پنجاب اور اسلام آباد میں ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ طلباء کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
اس سے قبل بھی پنجاب یونیورسٹی سے بیبرگ امداد اور پشتون طالب علم عالمیگر وزیر کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن معروف وکیل ایمان مزاری نے بلوچ طلباء کی نسلی پروفائلنگ اور جبری گمشدگیوں کے متعلق ایک قانونی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سردار اختر مینگل کے سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا تھا اور اس کمیشن نے رپورٹ کورٹ میں جمع کی ہے جس میں واضح طور پر ریاستی ایجنسیز کو طلباء کی نسلی پروفائلنگ اور جبری گمشدگیوں کا زمہ دار قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باجود بلوچ طلباء کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا اور نہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ روکا گیا ہے۔ آج یونیورسٹی گیٹ سے فرید بلوچ کی جبری اغواء تشویشناک ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں فرید بلوچ کی زندگی کو بچانے اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔