کراچی: بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کااحتجاجی کیمپ کو 4929 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4929 دن مکمل ہو گئے ہیں۔

کراچی ماڑی پور سے سماجی کارکن حبیب بلوچ، نذیر بلوچ، سندھ سبا کے رہنما انعام عباسی، سینئر صحافی چاند نواب اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ نجانے کتنے جبری لاپتہ افراد کو تشدد کر کے انکی لاشوں کو ویرانوں میں دفنایا گیا ہے جو آج تک منظر عام پر نہ آسکے، ہزاروں بلوچ تاحال ریاستی عقوبت خانوں میں بند ہیں اور ہر روز لکھے پڑھے نوجوانوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ کیا جا رہا ہے اس طرح اب لسٹ 55 ہزار سے بڑھ کر 60 ہزار تک پہنچ چکی ہے ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں گزشتہ دس سالوں سے جنگی صورتحال کے دوران علاقوں میر چھاپے مار کر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، عالمی اداروں سمیت پاکستان کی عدلیہ بھی انکی ریاستی عقوبت خانوں میں موجودگی کی تصدیق کر چکی ہے لیکن انہیں تاحال بازیاب نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان بلوچوں کو جبری اغواء اور شہید کرنے کے لئے فورسز اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنے کارندوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں جرائم پیشہ گروہوں کو باقاعدہ منظم کر رکھا ہے اور انہیں پیسے اور ہتھیار فراہم کر کے ان علاقوں میں بلوچوں کو جبری اغواء کرنے، ٹارگٹ کلنگ کرنے، اور علاقوں میں خوف ہراس پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے منشیات، اسمگلنگ اور بھتہ لینا اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ہر علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو چکا ہے، جبکہ خضدار حالیہ دنوں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے لئے ایک فری زون بن چکا ہے جہاں اسلحہ لے کر ایف۔سی کی سر پرستی میں ٹارگٹ کلنگ اور جبری اغواء کی کاروائیاں کرتے ہیں اور خوف پھیلا کر کاروبار بند کرا دیتے ہیں، خضدار کے متعدد بلوچوں کو ابتک ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہید کیا جا چکا ہے جبکہ قدم قدم پر چیک پوسٹ موجود ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment