چین ایغوروں کو بلا وجہ گرفتار کر رہا ہے، خفیہ دستاویزات میں انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

منظر عام پر آنے والی ایک تازہ دستاویز سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ چین مسلم ایغور اقلیت کو محض ان کے مذہب اور ثقافت کی بناءپر نشانہ بنا رہا ہے۔ اس میں ایسے سینکڑوں ایغوروں کی تفصیلات موجود ہیں جنہیں حراست میں لیا گیا۔

چینی صوبہ سنکیانگ میں ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھے جانے کی خبریں گزشتہ کئی برسوں سے عالمی میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہیں۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایغور مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان حراستی مراکز کا مقصد ان کی مذہبی بلکہ ثقافتی شناخت کو مٹانا ہے اور یہ کہ ان مراکز میں قید افراد کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں زبردستی اپنے مذہب کے برخلاف کاموں پر مجبور کیا جاتا ہے۔

تاہم چینی حکام کا مو¿قف ہے کہ یہ ووکیشنل ٹریننگ کے مراکز ہیں اور ان کا مقصد ایغور مسلمانوں میں شدت پسندی کے رجحان میں کمی لانا ہے۔

منظر عام پر آنے والی دستاویز، جس میں حراست میں لیے گئے ایغور مسلمانوں کی تفصیلات درج ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ڈی ڈبلیو اور کئی دیگر جرمن میڈیا اداروں این ڈی آر، ڈبلیو ڈی آر اور زوڈ ڈوئچے سائٹنگ کو ملنے والی ایک دستاویز میں چین کے سرکاری نکتہ نظر سے برخلاف یہ معلوم ہوا ہے کہ چین ایغور مسلمانوں کو شدت پسندانہ رویے کی بجائے انہیں ان کی مذہبی رسومات اور ثقافت کی بنیاد پر قید میں ڈال رہا ہے۔

لیک ہونے والی دستاویز 137 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں 311 ایسے ایغور باشندوں کے نام اور شناختی کارڈز کے نمبر درج ہیں، جنہیں 2017 اور 2018ءکے دوران حراست میں لیا گیا۔

اس فہرست میں گرفتار کیے جانے والے افراد کے خاندان کے ارکان، ہمسائیوں اور دوستوں کے بارے میں انتہائی زیادہ تفصیلات درج ہیں۔ اس فہرست میں 1800 سے زائد افراد کے نام، شناختی نمبرز اور ان کے سماجی رویوں کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

مثال کے طور پر کون شخص گھر پر نماز پڑھتا ہے یا قران پڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی سو دیگر افراد کے نام بھی موجود ہیں، جن کے بارے میں یہ تفصیلات اس فہرست میں موجود نہیں۔

اس فہرست میں شامل تمام ایغور کراکاکس کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ علاقہ چینی صوبہ سنکیانگ کا شمال مشرقی حصہ ہے، جو بھارت اور تبت کی سرحد کا قریبی علاقہ ہے۔

گو یہ دستاویز صوبہ سنکیانگ کے ایک چھوٹے سے علاقے کی نمائندگی کرتی ہے مگر اس میں ایغوروں کے بارے میں وہ اعداد وشمار حیران ک±ن اور انتہائی زیادہ ہیں، جو حکام نے جمع کر رکھے ہیں۔ لازمی اسمارٹ فونز ایپلیکیشنز، سکیورٹی کیمروں اور چہروں کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئرز کے ذریعے صوبہ سنکیانگ میں ا±ن کی ہر ایک حرکت کو نظر میں رکھا جاتا ہے۔

بعض لوگوں کو محض اس لیے ہدف بنایا گیا کیونکہ ان کے بچے طے شدہ حد سے زیادہ تھے، دیگر کو پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے پر۔ بعض مردوں کو محض داڑھی رکھنے پر بھی حراست میں لیا گیا۔ ایک شخص کو تو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ چھ برس قبل اس نے اپنے فون پر ایک مذہبی نوعیت کی ویڈیو ڈاو¿ن لوڈ کی تھی۔

یہ ضخیم دستاویز جو ایک پی ڈی ایف فائل کی صورت میں ہے اور اس پر کوئی سرکاری مہر موجود نہیں، لیکن بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے زبان اور مندرجات کی بنیاد پر یہ مستند لگتی ہے۔ ڈی ڈبلیو نے ایغور برادری سے تعلق رکھنے والے کئی ایسے افراد سے بھی بات کی جن کے رشتہ داروں کے نام اس فہرست پر موجود ہیں، ان لوگوں نے بھی اس کے اہم مندرجات کی تصدیق کی۔

Share This Article
Leave a Comment