ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔
جو بائیڈن نے صدارت کے لیے مقررہ 270 الیکٹورل کالج کا ہدف 273 الیکٹورل کالج ووٹس لے کر حاصل کر لیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ جنوری میں امریکہ کے 46ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
سنہ 1960 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کسی امیدوار نے اوہایو میں کامیابی کے بغیر وائٹ ہاو¿س تک رسائی حاصل کی ہے۔
اوہایو کو ایک انتہائی اہم ریاست سمجھا جاتا ہے، جو عام طور پر ایک رپبلکن ریاست تصور کی جاتی ہے۔ تاہم اس نے 1964 کے بعد سے اب تک جس بھی امیدوار کی حمایت کی ہے، وہی امریکہ کا صدر منتخب ہوا ہے۔
اس ریاست کے کل 18 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں اور اس مرتبہ حالانکہ یہ صدر ٹرمپ کے حصے میں آئی ہے لیکن مجموعی طور پر جو بائیڈن فاتح ٹھہرے ہیں۔
جو بائیڈن امریکی تاریخ میں کسی بھی امریکی صدارتی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے شخص بن گئے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ امریکی انتخاب انتہائی غیر معمولی نوعیت کے تھے اور اس مرتبہ ووٹر ٹرن آو¿ٹ بھی انتہائی زیادہ رہا ہے۔ بائیڈن کو اب تک سات کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل ہو چکے ہیں اور وہ اس سے براک اوباما کے ریکارڈ چھ کروڑ 94 لاکھ ووٹروں کو پچھے چھوڑ چکے ہیں۔