دفاع کیلئے کسی سے ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں،ایران

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے معاملے میں خود کفیل اور اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق اقوامِ متحدہ کی پابندی ختم ہونے کے باوجود اسے کسی دوسرے ملک سے ہتھیار خریدنے کی ضرورت نہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے دفاع کی بنیاد اپنے عوام پر بھرپور انحصار اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر روایتی اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خریداری، ایران کے دفاعی نظریے میں شامل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سن 2007 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر ہتھیاروں کی خریداری پر لگائی گئی پابندی اتوار کو ختم ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ختم ہونے کے باوجود یکطرفہ طور پر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں جب کہ اس نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا تھا کہ وہ بھی امریکی اقدام کی پیروی کریں۔

ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت جس میں روس، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ شامل تھے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ایران پر عائد پابندیاں بتدریج اٹھا لی جائیں گی۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی پابندیاں اٹھائے جانے سے ایران کے دیگر ممالک سے دفاعی تعاون کا راستہ کھل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں امن اور سیکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہو گی۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان 2018 میں اس وقت تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوہری معاہدے کو ناقص قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر اس سے الگ ہو گئے تھے۔

رواں سال اگست میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں میں توسیع کی قرارداد پیش کی گئی تاہم اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال اگست میں امریکی قرارداد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں امریکہ اور ڈومینک ری پبلک نے قرارداد کی حمایت جب کہ روس اور چین نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیے تھے۔

سیکیورٹی کونسل کے 11 رکن ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کے لیے نو رکن ممالک کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment