نیوزی لینڈ: عام الیکشن میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی پارٹی کامیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

نیوزی لینڈ کے عام انتخابات میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی بائیں بازوں کی لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق مذکورہ مینڈیٹ کا مطلب ہے کہ 40 سالہ جیسنڈا آرڈرن کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ سنگل پارٹی کی حکومت تشکیل دے سکتی ہیں اور انہیں ترقی پسند تبدیلی کی فراہمی کے چیلینج کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔

ویلنگٹن میں وکٹوریہ یونیورسٹی کے سیاسی مبصر برائس ایڈورڈز نے 80 برس کی نیوزی لینڈ کی انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے’۔

لیبر پارٹی کو ملک کی ایک ہی پارلیمنٹ کی 120 میں سے 64 نشستوں پر کامیابی حاصل تھی۔

اگر پارٹی لیبر آدھی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی ہیں تو جیسنڈا آرڈرن موجودہ نظام کے تحت سنگل پارٹی حکومت تشکیل دے سکیں گی۔

جیسنڈا آرڈرن اپنے گھر سے باہر نکلی اور ہاتھ لہرا کر حامیوں کو مبارکباد دی اور انہیں گلے لگایا۔

اپوزیشن نیشنل پارٹی کی رہنما جوڈتھ کولنز نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو کہا کہ وہ انہیں ‘شاندار نتائج’ کے لیے مبارکباد دیں۔

انتخابی کمیشن نے کہا کہ لیبر پارٹی کے پاس 49 فیصد ووٹ تھے جو کہ نیشنل پارٹی کے 27 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہے۔

انتخابی کمیشن نے کہا کہ 77 فیصد بیلٹ کی گنتی کرلی گئی جو دراصل آرڈرن کے کووڈ 19 کے حوالے سے جارحانہ اقدامات سے متعلق ریفرنڈم تھا۔

وزارت محنت کے وزیر خزانہ گرانٹ رابرٹسن نے کہا کہ لوگ کوویڈ 19 سے نبردآزما ہونے کے طریقہ کار پر بہت خوش تھے اور بہت خوش ہیں۔

سیاسی ویب سائٹ ڈیموکریسی پروجیکٹ کے تجزیہ کار جیفری ملر نے کہا کہ یہ جیت دراصل جیسنڈا آرڈن کی ‘سپر اسٹار’ مقبولیت اور برانڈ کے لیے ایک بہت بڑی ذاتی فتح ہے۔

خیال رہے کہ نیوزلینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ برس کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی تھی۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے نیوزی لینڈ کی 2 مساجد پر حملے کی لائیو ویڈیو وائرل ہونے پر آن لائن انتہا پسندی کے خلاف ‘کرائسٹ چرچ کال’ کے نام سے مہم کا آغاز کیا تھا۔

کرائسٹ چرچ کال میں مختلف ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباو¿ کے بعد ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں نے انٹرنیٹ پر انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ فیس بک نے حملے کے 24 گھنٹوں کے اندر ویڈیو کی 15 لاکھ کاپیاں ہٹائی تھیں لیکن سوشل میڈیا فیڈز میں وہ ویڈیو ظاہر ہوجاتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment