پاکستان کے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (ایچ آر سی) میں بھاری اکثریت سے انتخاب پر ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ پیش رفت اسلام آباد کی بین الااقوامی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے وہیں یہ ملک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری سے متعلق اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔
اقوام متحدہ کی 193 ممبران پر مشتمل جنرل اسمبلی نے پاکستان کو 169 ووٹوں سے انسانی حقوق کی کونسل کے رکن کی حیثیت سے دوسری بار مسلسل منتخب کیا۔ یوں پاکستان کے لیے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا موقف بیان کرنے کا ایک پلیٹ فارم اسے حاصل رہے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان پر انسانی حقوق کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کے پس منظر میں پاکستان کا انتخاب کئی عوامل کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔
امریکن یونیورسٹی میں ابن خلدون کے نام سے منسوب اسلامیات کے محکمہ کے چیئرمین پروفیسر اکبر احمد کہتے ہیں کہ سفارت کاری اور ممبران کے ووٹ دینے کے محرکات کے علاوہ جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے معروضی حالات نے پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو کچھ بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔
ایک طرف تو افغانستان کی جنگ جاری ہے اور وہاں دو گروہوں کے درمیان سیاسی سطح پر طویل عرصے سے تناو¿ اور اقتدار کی کشمکش ہے۔
دوسری جانب بھارت میں اقلیتوں کی حقوق کی پامالی نے دنیا میں اس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ ڈاکڑ اکبر احمد کا کہناتھا کہ پاکستان کی حکومت کو انسانی حقوق کے حوالے سے تعلیم پر زور دینا چاہیے۔
اس ہفتے اپنے دوبارہ انتخاب سے پہلے پاکستان یکم جنوری 2018 سے ایچ آر سی کا رکن چلا آ رہا ہے۔ یکم جنوری 2021 سے پاکستان آئندہ تین برس کے لیے کونسل کے رکن کی معیاد کا آغاز کرے گا۔
جنیوا میں قائم 47 ملکوں پر مشتمل ہیومن رائٹس کونسل ایک بین الحکومتی کونسل ہے جو کہ اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں خاص کر بلوچستان ،سندھ و خیبر پختونخوامیںجبری گمشدگیوں کا معاملہ ہو یا آزادی اظہار کا، اسی طرح مذہبی آزادیوں میں احمدیوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے حالات کی بات ہو تو حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور سرگرم کارکن پاکستان کو بہتر درجہ بندی رکھنے والے ممالک میں شامل نہیں رکھتے۔