ایک مہینہ قبل حیدرآباد سے لاپتا کیئے گئے سندھ سجاگی فورم کے رہنما اور سندھ بار کاﺅنسل حیدرآباد کے ممبر ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری گذشتہ رات دیر سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کنوینر سورٹھ لوہار نے اپنے ایک جاری کردہ پریس ریلیز میں اس کی تصدیق کردی ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دوسرے لاپتہ کارکنان کو بھی ظاہر کیا جائے گا ۔

یاد رہے کہ ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری کو 4 ستمبر 2020ع حیدرآباد جاتے ہوئے راستے سے اٹھاکر جبری لاپتا کیا گیا تھا۔
جس کی آزادی کے لیئے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں ان کی زوجہ عطرت بتول لغاری کی مدعیت پر ایڈوکیٹ سجاد احمد چانڈیو اور میر احمد منگریو کی رہنمائی میں آئینی پٹیشن داخل کی ہوئی تھی اور سوا مہینے سے سندھ بار کاﺅنسل اور حیدرآباد بار کاﺅنسل سمیت سندھ کی تمام بار کاﺅنسلز میں ایڈوکیٹ حیدر امام رضوی ، ایڈوکیٹ کے بی لغاری سمیت تمام وکلاءبرادری کی جانب سے احتجاج جاری تھے۔ جس کیس کے سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ نے جے آئی آٹی تشکیل دی تھی اور گذشتہ تاریخ 6 اکتوبر 2020ع پر کیس کی کاروائی چلاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد نے 14 اکتوبر 2020ع ڈفیس سیکریٹری آف پاکستان کو طلب کیا تھا۔

جبکہ دوسری جانب ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری کی آزادی کے لیئے سندھ سجاگی فورم اور وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ ،ایچھ آرسی پی سمیت سندھ کی تمام سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی کی تنظیمیں سندھ بھر میں سراپا احتجاج تھیں۔ جنہوں نے حیدرآباد اور کراچی میں کیئے گئے دو "لاپتا افراد آزادی مارچوں” سمیت ٹنڈوجام اور مسو بھرگڑی سندھ کے گئی شہروں میں احتجاج جاری رکھا ہوا تھا۔ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں آج ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری آزاد ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔

اس موقع پر وائس فار مسنگ پرسنز اس کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ سندھ بھر سے جبری لاپتا کیئے گئے 70 سے زائد دیگر کارکنان کو بھی ظاہر کیا جائے گا۔