پاکستانی وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کی تصدیق کردی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں‘جو خبر آرہی میں نے بھی پڑھی ہے اور وہ صحیح ہے’۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘جی پتہ چلا ہے تو کہہ رہے ہیں صحیح ہے، بہت کچھ کر رہے ہیں اور ہمیں اچھی خبر ملے گی’۔
خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی آڈیو ٹیپ رواں ماہ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو ‘پاکستانی سیکورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان دہشت گردوں کو پکڑنے اور نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوگئے۔
لیکن آزاد ذرائع بتاتے ہیں کہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے کیا وہ اپنی پوری خاندان کے ساتھ مبینہ آپریشن میں پاکستانی فوج کے ساتھ تھے۔انکے،مطابق یقینا یہ غیر یقینی بیان ہے جو پاکستانی ذرائع کی جانب سے بیان کیا گیا
آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دیے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا۔