اقتصادی پابندیوں سے ایران کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، صدر روحانی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے صدر حسن روحانی نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور تہران پر اقتصادی پابندیوںکے نفاذ کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعہ نشر کی جانے والی ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات سے ملک میں ادویات اور اشیائے خورونوش کی درآمدات کو نقصان پہنچا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’کے مطابق ٹیلی وڑن پر اپنے خطاب میں غصے کی حالت میں بات کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ ‘امریکیوں نے ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے اربوں ڈالر جھونک دیے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کبھی اس حد تک وحشی پن نہیں دیکھا اور اب ایرانی عوام کی نفرت و بددعا کا نشانہ وائٹ ہاو¿س ہے۔’

پیر کے روز امریکا نے تہران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے بین الاقوامی انکار کے پس منظر کے نتائج کی دھمکی کے بعد اس کے جوہری پروگرام کی حمایت کرنے والے اداروں اور افراد سے متعلق پابندیوں کے ایک نئے بیچ کا اعلان کیا تھا۔

امریکا نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران پر 18 اکتوبر کو ختم ہونے والی اسلحہ کے حصول پر عاید پابندی میں توسیع کرے۔ تاہم ‘یو این’ نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

موجودہ ایرانی مالی سال کے شروع میں 20 مارچ کو امریکی ڈالر کی زر مبادلہ کی شرح 160،000 ریال تھی ، لیکن جولائی کے آخر میں یہ 250،000 ریال تک پہنچ گئی۔

پچھلے جولائی تک آخری ہفتے سے پہلے ایرانی مرکزی بینک نے تقریبا ایک ارب ڈالر کی زرمبادلہ مقامی مارکیٹ میں پھینکا جس کے نتیجے میں ڈالر 210،000 ریال تک گر گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تبادلہ کی شرح میں پھر اتار چڑھاو¿ ہونا شروع ہو گیا۔

ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاو اور کشیدگی میں اضافہ 2015ئ? کے معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد شروع ہوئی۔ امریکا نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے ساتھ ایران پر عاید کی گئی سابقہ پابندیوں بحال کردی تھیں جس کے نتیجے میں ایران کو عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment