کراچی کے علاقے کیماڑی میں پراسرار گیس کے اخراج سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جب کہ 100 سے زائد افراد مہلک گیس سے متاثر ہوئے ہیں۔ چھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی سٹی کراچی مقدس حیدر کے مطابق رات آٹھ بجے کیماڑی کے مختلف مقامات سے اچانک گیس کی بو آنا شروع ہوئی جو علاقے میں پھیل گئی جس سے شہری متاثر ہونا شروع ہوئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے کیماڑی اور اس کے اطراف میں واقع علاقوں میں مبینہ طور پر زہریلی گیس کے اخراج سے متاثر ہونے والے درجنوں افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ جنہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جب کہ ان کے پیٹ میں بھی تکلیف بتائی گئی۔
حکام کے مطابق دورانِ علاج دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک 19 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر دس افراد کو کیماڑی میں واقع ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے ایک خاتون 60 سالہ معمار بیگم انتقال کر گئیں۔ ہلاک ہونے والے جن دیگر افراد کی شناخت ہوئی ہے ان میں رضوان اور احسن نامی شہری شامل ہیں۔
مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ اس بارے میں تاحال معلوم نہیں ہے کہ گیس کے اخراج کا مقام کیا تھا۔ تاہم اس وقت واقعے سے متعلق مختلف اور متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ریسکیو ادارے ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ زہریلی گیس کے اخراج سے ہلاک ہونے والوں میں سے دو افراد نے ڈاکٹر ضیاالدین اسپتال جب کہ دو کتیانہ میمن اسپتال میں دوران علاج دم توڑا۔ جب کہ گیس کے اخراج سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 80 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی لوگوں کی حالت اس وقت خطرے میں ہے۔
فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ پورٹ اتھارٹی حقائق سے فوری آگاہ کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ کس قسم کی گیس ہے اور ایسی گیس سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے۔