بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نےمیڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہدا کا مقدس خون آزاد بلوچستان کے سورج کی روشنی ہے، تربت کے قلب میں دشمن کو بارہا ہزیمت سے دوچار کر دینے والے کمانڈر کپٹن چاکر مراد کو بی ایل ایف کا سلام پیش کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے دیرینہ، نڈر، اور انتہائی باصلاحیت تنظیمی ساتھی شہید کیپٹن چاکر مراد عرف دلیپ امیر ولد مراد، سکنہ بلوچی بازار آپسر تربت کی عظیم قربانی اور لازوال جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید کیپٹن چاکر مراد نے سرزمین کے دفاع، قومی بقا اور غاصب دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے دوران بہادری و شجاعت کی وہ تاریخ رقم کی جو بلوچ قوم کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر اور مشعلِ راہ رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہید کیپٹن چاکر مراد فروری 2021ء میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہدِ آزادی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے، تاہم اپنی کمسنی ہی کے دور سے وہ تحریکِ آزادی اور تنظیم سے گہری دلی و نظریاتی لگاؤ رکھتے تھے۔ باقاعدہ شمولیت سے قبل بھی وہ کمسنی کے باوجود ساتھیوں کی رہنمائی، انٹیلی جنس معلومات کی فراہم کاری اور دیگر تنظیمی امور میں غیر معمولی طور پر فعال اور متحرک رہے۔ تحریک سے اسی وابستگی کی پاداش میں کمسنی ہی کے عالم میں قابض دشمن نے انہیں گرفتار کر کے چھ ماہ تک اپنے تاریک و بھیانک قید خانوں میں بند رکھا۔ دشمن کے ان عقوبت خانوں میں شہید کیپٹن چاکر نے اذیتیں، وحشیانہ ٹارچر اور ہولناک عذاب برداشت کیے، جبکہ دشمن نے انہیں لالچ دینے کی بھی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ آہن جیسا عزم رکھنے والا سرمچار نہ تو تشدد سے ٹوٹا، نہ خاموش ہوا، اور نہ ہی لالچ اور خوف انہیں قومی جنگ سے دور کر سکا۔
تنظیم کے مطابق رہائی کے بعد، بی ایل ایف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر کے انہوں نے تنظیمی صفوں میں گہری سیاسی و نظریاتی تربیت حاصل کی، جس کی بدولت انہوں نے اپنے احساسات و جذبات کو اعلیٰ انقلابی شعور میں بدل دیا اور غاصب ریاست کی استحصالی پالیسیوں کا درست اندازہ لگا کر دشمن کے سامنے ایک نڈر اور مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ انہوں نے کم عمری میں گوریلا جنگی حکمتِ عملی پر مکمل عبور حاصل کر لیا اور تنظیم کے سینئر اور دیرینہ ساتھیوں کی صف میں شمار ہونے لگے، جہاں کسی کو یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ ان کی عمر یا تنظیمی مدت کم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شہید کیپٹن چاکر مراد کی بے مثال جفاکش، غیر متزلزل مخلصی اور اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت تنظیم نے انہیں کیپٹن کے ذمہ دارانہ رینک پر فائز کیا اور کیمپ کا سیکنڈ کمانڈ مقرر کیا۔ وہ قربان یونٹ کے ایک صفِ اول اور جفاکش رکن تھے، قربان یونٹ بی ایل ایف کا خصوصی و ہراول دستہ ہے جو ہر چھوٹے بڑے معرکے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر فرنٹ لائن پر دشمن سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ شہید کیپٹن چاکر نے تربت، کیلکور، بالگتر، پنجگور، شاپک، پروم، زامران اور بلیدہ کے سخت اور دشوار گزار محاذوں پر قربان یونٹ کے ایک نڈر سرمچار کے طور پر تمام جنگی فرائض دلیری سے نبھائے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بالخصوص تربت شہر میں، جسے دشمن اپنی فوج، آئی ایس آئی، ایم آئی، ہیڈکوارٹرز، سینکڑوں چوکیوں اور پروردہ دلالوں کے باعث ایک محفوظ زون تصور کرتا تھا، شہید کیپٹن چاکر مراد نے قابضین کی دن رات کی نیندیں حرام کر دیں۔ شہید کیپٹن چاکر مراد نے تربت شہر میں اس وقت شہری گوریلا جنگ میں شدت پیدا کی اور اس کو منظم صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا جب شہری محاذ پر عسکری کارروائیاں نہ ہونے کے برابر اور نہایت دشوار تصور کی جاتی تھیں۔ انہوں نے بی ایل ایف کے اتحادی تنظیموں کو لاجسٹک، انٹیلی جنس اور حربی کمک فراہم کر کے شہری محاذ کا راستہ ہموار کیا اور مسلسل ان کی مدد فرمائی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیپٹن چاکر مراد نے دلاورانہ حکمتِ عملی کے تحت دشمن کے گڑھ میں گھس کر حملے کیے اور قابض فوج و انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو ان کے کیمپوں تک محصور کر کے رکھ دیا۔ کپیٹن چاکر مراد اور اس کے ساتھیوں نے تربت شہر کے قلب میں قابض فوج کو بارہا ہزیمت سے دوچار کیا اور ان پہ در پہ حملوں میں دشمن کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق مجید برگیڈ کے تاریخی فدائی آپریشن زر پہاز 4 (بحری آپریشن) کی کامیابی میں شہید کیپٹن چاکر مراد نے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی بے مثال گوریلا مہارت اور راہنمائی کے ذریعے مجید برگیڈ کے فدائی ساتھیوں کو تمام تر خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے نیوی کیمپ تک پہنچایا اور اس عظیم مشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی بے پناہ صلاحیتوں، بے مثال جفاکشی اور تنظیم کے غیر متزلزل اعتماد کی بدولت بی ایل ایف نے انہیں انتہائی اہم یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کی پہلی کارروائی کی ذمہ داریواں میں شامل کیا۔ کاڈ کے اس پہلے معرکے اور مشن کی کامیابی کے لیے شہید کیپٹن چاکر نے حد درجہ تکالیف، کٹھن حالات، سخت محنت اور بے مثال جفاکشی برداشت کی، تاکہ یہ انقلابی یونٹ ہر صورت کامیاب رہے اور قومی تحریکِ آزادی میں ایک روشن و نئے باب کا آغاز کامیابی کے ساتھ ہو۔ وہ اس تاریخی و اہم ترین مشن کو مشکلات اور خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔
انہوں نے تربت شہر کے بالکل قلب میں دشمن کو ایسا دردناک زخم اور تاریخی صدمہ دیا جس کی کسک دشمن کی آنے والی نسلیں بھی محسوس کرتی رہیں گی۔ اس معرکے کے دوران شہید کیپٹن چاکر مراد نے کاڈ ؤ قربان یونٹ کے تمام بہادر ساتھیوں اور شیر زال سرمچاروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا اور خود کو قربان کر کے ساتھیوں کی حفاظت کی ایک لازوال تاریخ رقم کی۔
تنظیم کے مطابق شہید کیپٹن چاکر مراد بی ایل ایف کے اندر ایک انتہائی سخت گیر اصول پسند اور پابندِ ڈسپلن سرمچار تھے۔ تنظیم کے قواعد و ضوابط کی پاسداری ان کے لیے ایک مقدس فریضے اور عبادت کی مانند تھی۔ انہوں نے نہ صرف خود کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا بلکہ کسی دوسرے ساتھی کو بھی تنظیمی ڈسپلن سے انحراف کی اجازت نہ دی۔ وہ اپنی غلام قوم کو آزادی کا شعور دینے، بیدار کرنے اور جنگ کی ترغیب دینے کے جنون میں مبتلا تھے اور شب و روز تحرک میں رہے۔ کیپٹن چاکر مراد شہری گوریلا جنگ کا ماہر سرمچار تھا اور اس کی جنگی حکمت عملیاں مسقبل میں شہری گوریلا جنگ میں بلوچ سرمچاروں کے لئے قابل تقلید ہونگے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف اپنے اس عظیم نوجوان رہنما، گوریلا جنگ کے ماہر اور بہادر سرمچار کی لازوال قربانی کو عظیم ترین الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ شہید کیپٹن چاکر مراد کا بہتا ہوا مقدس لہو بلوچ قوم کی آزادی اور خودمختاری کے سفر کو مزید تیز کرے گی۔ بی ایل ایف یہ عہد کرتی ہے کہ شہید کپٹن چاکر مراد کے مشن کو اس کی منطقی منزل آزاد بلوچستان تک پہنچایا جائے گا۔