بی ایل ایف کی ماہ ستمبر کی آپریشنل رپورٹ: کاڈ کا قیام ، 23 علاقوں میں حملے، 39 فوجی اہلکار اور 9 آلہ کار ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بی ایل ایف کی ماہ ستمبر کی آپریشنل رپورٹ جاری کردیا ہے جس میں کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا قیام اور تاریخی کارروائیاںسمیت مجموعی طور پر دشمن کے 60 اہلکار ہلاک و زخمی، 11 چیک پوسٹیں، فائبر آپٹکس اور مواصلاتی نظام تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے ستمبر 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے کلیدی سکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس، مواصلاتی ڈھانچے اور استعماری تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ انتہائی تسلسل، وسعت اور تزویراتی حکمتِ عملی کے ساتھ جاری رکھا۔ ان منظم اور منتخب ہدف پر کارروائیوں کا دائرہ کار چاغی، سوراب، آواران، خضدار، رخشان، تمپ، کوئٹہ، بارکھان، مند، خاران، تربت، زامران، دشت، جھل مگسی، دالبندین، گریشہ، نال، اوتھل، قلات، مستونگ، وڈھ، مشکے اور جھاؤ سمیت 23 مختلف علاقوں تک پھیلا ہے۔ ان تمام عسکری مہمات کا بنیادی مقصد قابض ریاست کے استحصالی نظام کو مفلوج کرنا اور مقبوضہ بلوچستان میں اس کی عسکری گرفت و استعماری عمل داری کو جڑوں سے ختم کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اہم اور تاریخی مہینے کے 22 ستمبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ نے خواتین پر مشتمل اپنے نو تشکیل شدہ گوریلا یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ)کی بنیاد رکھنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ تنظیم نے جونہی اس ڈویژن کا قیام عمل میں لایا، کاڈ کے باہمت جنگجوؤں نے تین بڑی اور کامیاب گوریلا کارروائیاں سرانجام دیں۔ پہلا حملہ تربت، جوسک میں سی پیک (CPEC) ہائی وے پر پاکستانی فوج کے قافلے پر کیا گیا جس میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ قلات کے علاقے منگچر میں ناکہ بندی قائم کرکے اسنیپ چیکنگ کیا گیا جس کے دوران قابض فوج کے پیش قدمی کرنے کی کوشش پر کاڈ کے بہادر جنگجؤں نے انہیں نشانہ بنایا جس میں ان کے 3 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ 29 ستمبر کو قلات کے ہی علاقے دشت گوران میں بھی ناکہ بندی کی گئی۔ یہ کارروائیاں بلوچ خواتین کی عسکری صلاحیت، لازوال جذبے اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے فیصلہ کن کردار کو واضع کرتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ستمبر کے مہینے میں مجموعی طور پر 55 مسلح کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان منظم ضربات کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 39 اہلکار ہلاک اور 12 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ تحریک کے خلاف مخبری اور ڈیتھ اسکواڈز میں شامل دشمن کے 9 کلیدی آلہ کاروں اور ایجنٹوں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ سرزمین کے دفاع اور قومی بقا کی اس عظیم جنگ میں دشمن کی افواج کے خلاف دلیری سے سینہ سپر ہوتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 11 جانباز سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

تنظیم نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ تزویراتی اور عسکری پیش قدمی کے تسلسل میں دشمن کی سپلائی لائن، کمک اور نقل و حرکت کو منقطع کرنے کے لیے مختلف اہم شاہراہوں پر 14 کامیاب ناکہ بندیاں قائم کی گئیں، جبکہ نقل و حمل کے دوران دشمن کے متحرک 5 فوجی قافلوں کو گھات لگا کر جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ، سرمچاروں نے دشمن کی 11 فوجی چیک پوسٹوں اور 2 بڑے عسکری کیمپوں پر بھی براہِ راست اور مربوط حملے کر کے ان کے دفاعی حصار کو شدید نقصان پہنچایا۔تکنیکی، مواصلاتی اور مالی محاذ پر قابض کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے مواصلاتی نظام کو ہدف بنایا گیا۔ کارروائیوں کے دوران دشمن کا 1 فائبر آپٹکس اسٹیشن اور 2 موبائل ٹاورز تباہ کر دیے گئے۔ مادی و عسکری محاذ پر بارودی مواد اور راکٹوں کی مدد سے قابض فوج کی 5 گاڑیاں تباہ کی گئیں، جبکہ مختلف معرکوں کے دوران پسپا ہونے والے دشمن کے اہلکاروں سے 9 جدید ہتھیار اور دیگر عسکری ساز و سامان قبضے میں لے کر ضبط کر لیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عسکری کارروائیوں میں تنوع اور جنگی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 18 مرتبہ دشمن پر حملے کیے گئے، جن میں 17 بھاری ہتھیاروں کے عمومی حملے اور 1 انٹیلی جنس بنیادوں پر مبنی آپریشن شامل ہے، 5 منظم گھات حملے کیے گئے، 3 بار آئی ای ڈی ریموٹ کنٹرول دھماکے کیے گئے، 2 مرتبہ گرنیڈ لانچر حملے اور 2 بار اسنائپر رائفل سے دشمن کے اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ متنوع اور مہلک حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کا واضح مظہر ہیں۔ یہ حملے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سنیپر ٹیکٹیکل ٹیم، قربان یونٹ اور کاڈ کے سرمچاروں نے سرانجام دیے ہیں۔

ماہ ستمبر کی جاری کئی گئی آپریشنل رپورٹ کے آخر میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ان تمام قومی شہداء کو ان کی عظیم اور لازوال قربانی پر خراجِ عقیدت پیش کیا اور اپنے اس عزم کااظہارکیا کہ شہداء کا مشن بلوچستان کی کامل آزادی تک جاری رہے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article