بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ الندور میں گزشتہ رات ہونے والے مسلح حملے کے بعد متاثرہ خاندان نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 12 سالہ کمسن بچے براہمدغ ولد رفیق کے اغوا کا دعویٰ کیا ہے ۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے رحمت ولد رفیق کی والدہ نے بتایا کہ گزشتہ رات 11 بجے سے صبح 3 بجے تک مسلح افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں خاندان کے دو افراد ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوئے، اور گھر میں موجود تمام سامان و گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور ان کے 12 سالہ بیٹے براہمدغ کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
متاثرہ خاتون نے مزید کہا کہ دو ماہ قبل بھی ان کے ایک اور بیٹے حیربیار کو قتل کیا گیا تھا اور ان کا خاندان مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ براہمدغ ایک کمسن اور بے قصور بچہ ہے، اس لیے اسے فوری طور پر آزاد کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق بلیدہ الندور میں جس گھر اور افراد کو نشانہ بنایا گیا، ان کا تعلق پاکستانی عسکری فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی حمایت یافتہ مقامی "ڈیتھ اسکواڈ” سے بتایا جاتا ہے۔
بلوچستان میں فعال بلوچ آزادی پسند تنظیمیں ایسے مسلح گروہوں کو عام شہریوں، سیاسی کارکنان اور طلباء کی مخبری، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار قرار دے کر نشانہ بناتی رہی ہیں۔ تاہم، الندور میں ہونے والے اس حالیہ حملے اور 12 سالہ بچے کے اغوا کی ذمہ داری فی الحال کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔