بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کانک سے سرکاری دورے پر آئے محکمہ آبپاشی (Irrigation Department) کے تین اہلکاروں کو نا معلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعہ پیش آنے کے دو دن گزر جانے کے باوجود نااہلکاروں کا کوئی پتہ چل سکا ہے اور نہ ہی ان کی بازیابی سے متعلق انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری پیشرفت سامنے آئی ہے۔
واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی گروپ یا تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے معاملے پر خاموشی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کا اثر و رسوخ اور عسکری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر بڑھ گئی ہیں، جس کے باعث پاکستانی فوج اور پیراملٹری فورسز دفاعی پوزیشن پر مجبور دکھائی دیتی ہیں۔
تجزیہ کاروں اور مقامی ذرائع کے مطابق، زمین پر سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور وہ مسلح حملوں کو روکنے کے بجائے عام شہریوں کو ہراساں کرنے اور جبری گمشدگیوں جیسی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔