پنجگور میں 3 نعشوں کی شناخت ہوگئی،کوئٹہ وخضدار سے 2 افراد کی لاشیں برآمد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

بلوچستان کے علاقے پنجگور سے برآمد ہونےو الی 5 نعشوں میں سے 3 کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ کوئٹہ اور خضدار سے 2 افراد کی لاشیں برآمدہوئی ہیں۔

پنجگور کے تحصیل گوراگو سے پانچ برآمد ہونے والے لاشوں میں سے تین کی شناخت ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق لاشوں کی شناخت شفیق احمد ولد داد محمد سکنہ راہی نگور حبیب اللہ ولد محمد مسلم سکنہ کا کاٹا گری گوارگو اور صفئی اللہ ولد عبد الوھاب سکنہ خدابادان کے نام سے ہوگئی ہیں جبکہ دو لاشیں شناخت کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور میں رکھے گئے ہیں۔

آج پنجگور کے تحصیل گوارگو کے ایریا سے پنجگور پولیس نے پانچ افراد کی لاشیں ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیئے تھے۔جبکہ اسی علاقے میں پاکستانی فوج نے 4 بلوچ مسلح افراد کو بھی مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ برآمد لاشوںکا تعلق فوج کی دعوے سےہوسکتا ہے ۔

اس حوالے سے ضلعی حکام کی جانب سے مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔

دوسری جانب کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ اور خضدارکے زیرو پوائنٹ کے ایریا سے 2 افراد کی لاش برآمدہوئی ہیں۔

کوئٹہ سے اطلاعات ہیں کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ سے چند روز قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والے حسن دمڑ نامی شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

مقتول کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حسن دمڑ کو چند روز قبل نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا، جس کے بعد اس کی لاش مارگٹ کے علاقے سے ملی۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر متعلقہ حکام نے لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کردی، جبکہ واقعے کے محرکات اور ملزمان سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

جبکہ خضدار کے زیرو پوائنٹ کے ایریا سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

لاش کی شناخت غلام مرتضیٰ ولد عبدالغنی سکنہ لونڈو باغبانہ کے نام سے ہوئی ہے۔

متوفی کے جسم پر زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔

پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لےکرسول ہسپتال خضدار منتقل کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق متوفی کی جیب سے اس کا شناختی کارڈ برآمد ہوا جس سے اس کی شناخت ممکن ہوئی۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فورسز پر بلوچ مسلح افراد کی کارروائیوں میں تیزی کے ساتھ ہی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے، جن کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہو رہی ہے۔

اس سے یہ تاثر توانا ہوتا ہے کہ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے حملوں کے جواب میں پاکستانی فوج جبری لاپتہ افرادجو پہلے سے ان کے اذیت خانوں میں غیر انسانی تشدد کا سامنا کر رہے ہیںکو انتقامی طور پر حراستی قتل کا نشانہ بنا کر شدید جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article