بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC) کی جانب سے ’بلوچ لٹریسی کیمپئین‘ کے بینر تلے بلوچستان کے تعلیمی زوال اور تعلیمی اداروں کی زبوں حالی پر مبنی ایک جامع معلوماتی کتابچہ (Booklet) جلد شائع کیا جا رہا ہے۔
شائع ہونے والے اس کتابچے میں درج ذیل اہم موضوعات اور حقائق کو شامل کیا گیا ہے:
میدانی رپورٹس اور ڈیٹا:
بلوچستان کے مختلف اضلاع کے اسکولوں اور کالجوں سے جمع کیے گئے مستند اعداد و شمار اور فیلڈ رپورٹس کو دستاویز کی شکل دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں کا تجزیاتی جائزہ:
بلوچستان کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات (Universities) میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، اساتذہ کی کمی، اور موجودہ ابتر صورتحال کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔
سازمانی موقف:
بلوچستان میں خواندگی کی شرح، تعلیمی پالیسیوں، اور درپیش بحران پر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا باضابطہ اور اصولی موقف شامل ہے۔
چیئرمین بساک کا خصوصی انٹرویو:
کتابچے میں بساک کے مرکزی چیئرمین عزیر بلوچ سے کی گئی تفصیلی گفتگو بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے ’بلوچ لٹریسی کیمپئین‘ کے اہداف، لٹریسی ٹیم کی پیشرفت، اور اسکولوں سے موصول ہونے والے تازہ ترین تشویشناک اعداد و شمار پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ کتابچہ جلد ہی باقاعدہ طور پر منظرِ عام پر لایا جائے گا تاکہ بلوچستان میں جاری تعلیمی ایمرجنسی کو عوامی و عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔