بلوچ طلبہ کا کسٹوڈیل قتل، بی وائی سی کا عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ طلبا اور شہریوں پر ماورائے آئین و قانون تشدد، جبری گمشدگیوں اور دورانِ حراست قتل کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے ملیر سٹی تھانے کی پولیس کسٹڈی میں الیکٹرک شاکس سے 17 سالہ ایف ایس سی کے طالب علم ارشاد بلوچ کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب کوئٹہ سے ایک سال قبل لاپتہ کیے گئے طالب علم عمران علی کو سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں نے جعلی مقابلے میں قتل کر کے لاوارث قرار دے کر دفنا دیا ہے۔

ملیر سٹی پولیس کی حراست میں 17 سالہ ارشاد بلوچ کا قتل:

تفصیلات کے مطابق لاسی گوٹھ ملیر (کراچی) کے رہائشی اور ایف ایس سی کے 17 سالہ طالب علم ارشاد بلوچ ولد محمد یونس کو 29 اگست 2026 کو پولیس اور خفیہ اداروں نے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ گمشدگی کے محض ایک دن بعد، 30 اگست 2026 کو ملیر سٹی پولیس کی حراست سے ان کی لاش جناح ہسپتال کراچی منتقل کی گئی، جہاں اہل خانہ کو بتایا گیا کہ ارشاد کی موت ‘الیکٹرک شاک’ لگنے سے ہوئی ہے۔

ارشاد کے والدین نے ہسپتال پہنچ کر شدید احتجاج اور سوالات اٹھائے کہ آخر ان کے بیٹے کو کس جرم میں اٹھایا گیا اور دورانِ حراست تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ بی وائی سی کے مطابق کسٹڈی کے دوران برقی جھٹکوں اور تشدد سے طالب علم کی ہلاکت ایک سنگین ترین ناانصافی ہے جس کی آزادانہ تحقیقات اور محاسبے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایک سال سے لاپتہ طالب علم عمران علی کا جعلی مقابلے میں قتل:

ایک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں کوئٹہ کے عارف پلازہ (اے ون سٹی) سے 27 اگست 2025 کو سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیے جانے والے طالب علم عمران علی کا کسٹوڈیل قتل سامنے آیا ہے۔ اداروں کی جانب سے مسلسل انکار کے باوجود، 6 اگست 2026 کو پولیس نے انکشاف کیا کہ عمران علی کو 23 مئی 2026 کو ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

فورسز نے اہل خانہ کو اطلاع دیے بغیر اور جنازے کے بنیادی حق سے محروم رکھتے ہوئے ان کی لاش خفیہ طور پر دفنا دی۔ حراست سے آزاد ہونے والے 3 دیگر شہریوں نے بھی تصدیق کی تھی کہ عمران ان کے ساتھ عذاب ناک اذیت خانوں میں قید تھے۔ اداروں کی جانب سے اب اسے مسلح مقابلے کا نام دیا جا رہا ہے، جسے بی وائی سی نے ریاست کی جانب سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کا روایتی ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دونوں واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈز کو متحرک کر کے بلوچ نوجوانوں، بالخصوص طلبہ کو منظم منصوبہ بندی کے تحت جبری گمشدگی، دورانِ حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بی وائی سی نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور کسٹوڈیل قتل کے ان سنگین واقعات کا فوری نوٹس لیں اور ملوث اداروں کو بین الاقوامی عدالتوں میں جوابدہ بنائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article