عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) کے موقع پربلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ( BSAC )نے’بلوچ لٹریسی کیمپئین‘ کے بینر تلے بلوچستان میں جاری شدید تعلیمی بحران پر ایک معلوماتی کتابچہ اور فیلڈ رپورٹ کا انفوگرافک جاری کیا گیا ہے، جس میں بلوچستان کے تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال اور حکومتی عدم توجہی کو فیکٹس کے ساتھ سائنسی بنیادوں پر اجاگر کیا گیا ہے۔
11 اضلاع کی فیلڈ رپورٹ کے اہم انکشافات:
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC) کے تعاون سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق رواں سال بلوچستان کے 11 اضلاع کے 55 سے زائد اسکولوں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار سے درج ذیل حقائق سامنے آئے ہیں:
گھوسٹ و فعال اسکولز:
سروے کیے گئے اسکولوں میں سے 24 سے زائد اسکولز سرے سے بند پائے گئے ہیں جو ‘گھوسٹ اسکولز’ کا منظر پیش کر رہے ہیں، 29 اسکولز صرف جزوی طور پر فعال ہیں، جبکہ 4 علاقے ایسے بھی سامنے آئے ہیں جہاں اسکول نامی کسی عمارت یا ادارے کا وجود ہی نہیں ہے۔
بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی:
اسکولوں کی بلڈنگز کی خستہ حالی اور اساتذہ کی شدید کمی سرفہرست مسائل ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، نصابی کتابوں کا فقدان اور طلبہ کے لیے بیٹھنے کے ڈیسک اور فرنیچر کی محرومی کے مسائل انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔
گھوسٹ اساتذہ کا مسئلہ:
رپورٹ کے مطابق ایک اور بڑا بحران گھوسٹ اساتذہ کا ہے، جو یا تو ڈیوٹی پر نہیں آتے یا پھر اپنی جگہ غیر متعلقہ و نااہل متبادل (Alternate) افراد کو کم اجرت پر رکھ کر خود غیر حاضر رہتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مطابق اس اہم فیلڈ رپورٹ کی کامل دستاویز اور تفصیلی حقائق جلد ہی کتابچے کی صورت میں باقاعدہ شائع کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان میں جاری تعلیمی زوال اور طلبہ کے بنیادی حقوق کی پامالی کو عالمی و علاقائی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔