تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے دکی میں گذشتہ دنوں ایک حملے میں افغان سیکیورٹی اہلکار سمیت 5 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بلوچستان کے علاقے دکی اور لورالائی کے سرحدی علاقے میں گذژتہ دنوں پیش آنے والے ایک خونریز واقعے میں مبینہ طور پر ایک سابق افغان سیکیورٹی اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے سرحدی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو نشانہ بنایا۔
واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت بشیر، آغا، خانو، عزت اور نادر کے ناموں سے ہوئی ہے، جن میں سے ایک کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ سابق افغان حکومت کا سیکیورٹی اہلکار تھا۔
اب تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے دکی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستان حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیا کے تین اراکین کو موقع پر ہی قتل کر دیا ہے جبکہ مزید دو افراد کو حراست میں لے کر گرفتار کر لیا ہے۔
حکومتی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہلاکتوں اور ٹی ٹی پی کے دعوے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے حتمی موقف سامنے آنا باقی ہے۔