بحرہ بلوچ میں پِٹن مچھلی کی شکار میں اضافہ ، سمندری تنوع متاثر ہونے کا خدشہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر معظم خان نے کہا ہے کہ کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اسٹنگ رے کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جا رہا ہے، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع اور ایکو سسٹم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

معظم خان کے مطابق اسٹنگ رے کو مقامی زبان میں” پِٹن "کہا جاتا ہے، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس مچھلی کی آبادی میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیتے جیسے نشانات والی اسٹنگ رے کو مقامی سطح پر معدومیت کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

معظم خان کا کہنا تھا کہ اسٹنگ رے کا گوشت ذائقے کے اعتبار سے پسند نہیں کیا جاتا اور پاکستان میں عام طور پر اسے کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، تاہم اس مچھلی کو تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا برآمد کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ 12 برس کے دوران اسٹنگ رے کے ’ونگز‘ (پروں) کی برآمد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث اس کے شکار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹنگ رے کا بے دریغ شکار سمندری حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے توازن کو متاثر کرسکتا ہے، اس لیے اس کے شکار اور تجارت کی نگرانی اور مؤثر انتظام ضروری ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article