بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں 7 کارروائیوں میں 11 فوجی اہلکاروں ، 2 ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کارندو ں کی ہلاکت اور پولیس تھانہ و گاڑیاں تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 22 اگست 2026 کو آواران کے علاقے کولواہ، گیشکور میں روڈ سیکیورٹی پر مامور قابض فوج کے دستے کو حملے میں بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 5 فوجی اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے دوران سرمچاروں نے سڑک کی تعمیر میں مصروف گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حملے کے فوراً بعد گیشکور کے مرکزی کیمپ سے قابض فوج کی کمک کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچا تو مستعد سرمچاروں نے ہیلی کاپٹر پر ایل ایم جی سے تیر برسا کر حملہ کیا، جس سے قابض فوج پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسی روز ایک اور کاروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقہ شیرین و فرہاد کے مقام پر قائم پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا۔ سرمچاروں نے پولیس چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کو حراست میں لے کر وہاں موجود ایک کلاشنکوف اور دیگر عسکری سامان اپنے قبضے میں لے لیے، جبکہ چوکی سمیت پولیس کی دو گاڑیوں اور ایک موٹر سائیکل کو نذرِ آتش کر دیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران سرمچاروں نے بیلہ-جھاؤ روڈ پر کچھ ریاستی آلہ کاروں کے سفر کی اطلاع پا کر تقریباً دو گھنٹے تک ناکہ بندی کر کے سخت چیکنگ کی۔ دورانِ چیکنگ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے دو کارندے، محمد ولد نور محمد اور اس کا بیٹا ظفر ولد محمد سکنہ واجہِ باغ، جھاؤ موقع پر پہنچے۔ سرمچاروں کو دیکھتے ہی انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور ایک پسٹل بمعہ میگزین برآمد کر کے ضبط کر لیاگیا جبکہ ان کی موٹر سائیکل کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
تنظیم کے مطابق ڈیتھ اسکواڈ کا اہم کارندہ ظفر ولد محمد، سردار علی حیدر کی سرپرستی میں چوری، ڈکیتی اور بھتہ خوری سمیت دیگر سماجی برائیوں میں ملوث رہا ہے اور قابض فوج کے ساتھ مل کر سرمچاروں کے خلاف کئی آپریشنز میں براہِ راست شریک رہا ہے۔ حال ہی میں وہ جھاؤ کے مختلف علاقوں میں عام اور نہتے بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ وصولی میں بھی ملوث تھا۔
ترجمان نے کہا کہ ظفر ولد محمد کو ایک سال قبل اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تنظیم کی جانب سے پیغام بھیجا گیا تھا، تاہم اس نے اسے نظر انداز کیا اور تنظیمی عدالت میں پیش نہیں ہوا، بلکہ فوج کے لیے مزید کام کرنا شروع کر دیا۔ اس نے ایک بلوچ ڈرائیور، درمان ولد رحیم بخش کو قابض فوج کے سامنے پیشی کے نام پر بلوایا اور واپسی کے راستے میں اسے ٹارگٹ کر کے اس کی لاش ویرانے میں پھینک دی، بعد میں پروپیگنڈا کر کے اس واقعے کو تنظیم سے منسوب کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگست 2025 میں بی ایل ایف کے سرمچار حاصل عرف ساربان کی شہادت میں بھی ظفر کا ہاتھ تھا۔ جھاؤ کے علاقے کورک میں ایک چرواہے، حمزہ بلوچ کو اغوا کر کے جھاؤ، کوہڑو فوجی کیمپ لایا اور دو دن بعد اس کی لاش پھینک دی گئی۔ ان واقعات کی بنا پر ظفر تنظیم کی ہٹ لسٹ پر تھا، جسے سرمچاروں نے اس کارروائی میں اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک اور کاروائی میں 22 اگست کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کوئٹہ کے علاقہ ڈغاری میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے آمد و رفت کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس ناکہ بندی کا مقصد علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا اور قابض فوج کے اہلکاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے فائرنگ کر کے معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کے ٹائر ناکارہ کر دیے۔
بی ایل ایف کے مطابق ایک مزید کارروائی میں سرمچاروں نے 15 اگست 2026 کو قلات کے علاقے رودینجو میں قابض فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے اڑا دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
اسی طرح 15 اگست ہی کو ایک اور کارروائی کے دوران، سرمچاروں نے چاغی کے علاقے یکمچ میں قابض فوج اور ان کے تعمیراتی منصوبوں سے منسلک 3 بلڈوزر گاڑیوں پر فائرنگ کر کے انہیں نقصان پہنچایا۔
جبکہ 13 اگست 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے سوراب میں ایک کاروائی کے دوران گھات لگا کر قابض فوج کے قافلے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 3 اہلکار ہلاک جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔
علاوہ ازیں 4 اگست 2026 کو پروم کے علاقے جاہین میں قائم پولیس تھانے کا محاصرہ کر کے اس پر ہمہ جہت حملہ کیا گیا۔ سرمچاروں نے تھانے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں موجود تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد تھانے سے 2 موٹر سائیکلیں، 1 ٹی ٹی پسٹل، 1 دوربین اور دیگر عسکری سامان ضبط کر کے پوری عمارت کو نذرِ آتش کر دیا۔ بعد ازاں حراست میں لیے گئے پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد تنظیمی اصولوں اور انسانی ہمدردی کے تحت رہا کر دیا گیا۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں، قابض فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور املاک کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔