بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بلوچستان کے علاقے سوراب گدر میں عام انسانی آبادی پر پاکستانی فوج کی جیٹ طیاروں کے ذریعے بمباری ، معصوم خواتین و بچوں کے قتل عام اور خونریزی پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے جاری ایک ویڈیو بیان میں سوال اٹھایا کہ کیا چار سال کا کوئی دہشت گرد ہوتا ہے دنیا میں؟ 10 سال کی چھوٹی بچیاں دہشت گرد ہیں؟ ہر بلوچ دہشت گرد ہے؟ اگر ہر بلوچ دہشت گرد ہے تو اس لقب کو، اس دیے ہوئے لقب کے ساتھ بلوچ سرزمین سے بھی اپنا تعلق توڑ دیں۔ اگر آپ بلوچ سرزمین کو، بلوچ سرزمین سے وابستہ اس چھوٹے چار ماہ کے نونہال بچے کو دہشت گرد کہتے ہیں تو آپ کی ڈکشنری میں بلوچ سے آپ کا کوئی تعلق بن ہی نہیں سکتا!کیونکہ بلوچ کا خون آپ نے بہانا اپنا فرض بنا لیا ہے، آپ ہر بلوچ کو دہشت گرد ڈکلیئر کر رہے ہو، تو دہشت گردوں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ بنائیں۔ چلے جائیے یہاں سے!
ان کا کہنا تھا کہ "آج 12 اگست صبح بلوچستان کے علاقے سوراب، گدر میں عام آبادیوں کو پاکستانی جیٹ طیاروں کی مدد سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ جس میں اس وقت تک 7 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 21 سے زیادہ شہری زخمی ہو چکے ہیں، اور دیگر کئی افراد اس علاقے سے لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ ملبے کے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں ایف سی اہلکار ملبے سے نکالنے کے لیے یا ریسکیو آپریشنز کے لیے عام عوام کو نہیں چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف سی اہلکاروں نے اس ایریا کو سیل آف کر لیا ہے تاکہ وہاں سے کسی بھی قسم کے ثبوت و شواہد دنیا تک نہ پہنچائے جا سکیں۔ افسوس کا مقام ہے، درد کا مقام ہے کہ آج ہمارے الفاظ، آج ہمارے جذبات اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتے۔ اس کیفیت کو محض وہ لاشیں بیان کر رہی ہیں جو اس وقت سڑک پر احتجاج کے لیے رکھی ہوئی تھیں۔ اس کیفیت کو بیان کرتی وہ مسمار بستی ہے جو اس وقت صفحۂ ہستی سے اجڑ چکی ہے۔ اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے وہ خون آلود تصاویر، وہ ایک معصوم بچی کی لاش، وہ چیختے، بلکتے، جھلستے افراد ہی کافی ہیں۔
صبیحہ بلوچ نے کہا کہ ہم اس واقعے کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ مگر افسوس کا مقام ہے، تکلیف کا مقام ہے کہ نہ صرف ہمارے لوگوں کو پاکستانی جیٹ طیارے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز دن دہاڑے قتل کر رہے ہیں، بلکہ وہ اس قتلِ عام کا جشن بھی منا رہے ہیں۔ شرم آنی چاہیے پاکستانی میڈیا کو جو یہ کلیم کر رہے ہیں کہ انہوں نے دہشت گرد مارے ہیں۔
بی وائی سی رہنما کا کہنا تھا کہ انتہائی، انتہائی شرمناک عمل ہے وہ تمام نیوز چینلز۔۔۔۔میں کہتی ہوں اگر کسی میں انسانیت ہے تو ان کا بائیکاٹ کریں۔ اگر کسی میں انسانیت ہے تو ان تمام افراد کا، جنہوں نے آج نہ صرف اس بستی پر ہونے والی بمباری کا جشن منایا، بلکہ اس کے بعد اس بستی سے نکلنے والے شواہد کو روکا، اور جب ان کے لواحقین دھرنے پر بیٹھےخاص کر ڈی سی سوراب اور ان کے ساتھ وہ قبائلی عمائدین جو بار بار لوگوں کے پاس گئے اور مذاکرات کے نام پر ان لوگوں کو اٹھایا،میں کہتی ہوں آپ کو شرم آنی چاہیے!
ان کا کہنا تھا کہ آپ گھر میں اپنے نونہال بچے کو دیکھیں اور اس کی آنکھوں میں دیکھیں، اور امیجن کریں کسی دن وہ بھی بمباری میں مرنے والا ہے، کسی دن وہ بھی اس بربریت کا نشانہ بننے والا ہے، تب آپ کو احساس ہو کہ غریب کا بچہ جب مرتا ہے، عام عوام کا بچہ جب مرتا ہے اور اس کے لیے انصاف کے تمام دروازے بند کیے جاتے ہیں اور اس کی موت پر جشن منایا جاتا ہے۔
صبیحہ بلوچ نے کہا کہ شرم آنی چاہیے ان تمام افراد کو جو ایک چار سال کے بچے کی موت کا جشن منا رہے ہیں اور اسے دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت جو خون ریزی جاری ہے، بلوچستان میں اس وقت جو حالات ہیں اور وہ تمام افراد جو ان تمام واقعات پر خاموش ہیں، میں انہیں… میں انہیں ان تمام واقعات میں شریکِ جرم سمجھتی ہوں۔ وہ سیاسی پارٹیاں، وہ افراد جو اس مجرمانہ فعل پر خاموش ہیں، وہ تمام کے تمام شریکِ جرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں تمام ذی شعور افراد، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، ان سے درخواست کرتی ہوں کہ بلوچستان کے بارے میں بولیں۔ بلوچستان دوسرا غزہ بن رہا ہے۔ بلوچستان دوسرا غزہ بن رہا ہے! جہاں بمباریاں ہو رہی ہیں، یہاں لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں، یہاں دن دہاڑے عام لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں بات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام جرنلسٹس سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس متاثرہ علاقے کا جلد از جلد دورہ کریں۔ جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں، خدا کے لیے بولیں! اتنا چپ کا روزہ آپ کی… جو ہے نا، شریکِ جرم ہونے کا خود اعتراف کر رہا ہے۔ بولیں! خاموشی آپ کے شریکِ جرم ہونے کا اعتراف کر رہی ہے۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ کل بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ یہ درحقیقت ایک سوگ ہے۔ کل سوگ منائیے! اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔ کل سوگ منائیے، اپنے دکانات خود بند کریں۔ آپ کا یہ عمل صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک سوگ ہے، اس چار سال کے معصوم بچے کے لیے جس کو آج ریاستی میڈیا دہشت گرد کہہ رہی ہے۔ آپ کا احتجاج میں شریک ہونا، اس سوگ میں شریک ہونا ہے، ان افراد کے غم میں شریک ہونا ہے جن کے پاس شاید بڑے الفاظ نہیں، مگر ان کا خون بھی معنی رکھتا ہے، وہ بھی انسان ہیں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے بلوچستان میں ہونے والے اس جرم پر بولیں! میں تمام افراد سے گزارش کرتی ہوں کہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں اور اپنا سوگ بھی ریکارڈ کرائیں، اور ان معصوم خون… ان معصوم بچوں کے لیے آواز اٹھائیں۔