ترک پارلیمنٹ میں کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے لیے سزا میں نرمی کے قانون کی منظوری

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

ترکی کی پارلیمنٹ نے 10 اگست کو ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کالعدم کُرد گروپ ’کردستان ورکرز پارٹی‘ یعنی ’پی کے کے‘ کے متعدد سابق جنگجوؤں کو جزوی معافی دی جائے گی اور ان کی قید کی سزائیں معطل کی جائیں گی۔

یہ اقدام گروپ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا عمل جاری رکھنے کے بدلے کیا گیا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق انقرہ حکومت اور پی کے کے کے درمیان جاری امن عمل کے تحت پیش کیے گئے اس ’فریم ورک لا‘ کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 88 نے مخالفت کی اور چھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

صرف قوم پرست اپوزیشن جماعت ’گڈ پارٹی‘ کے ارکان نے اس بل کی بھرپور مخالفت کی۔

قانون کے تحت زیادہ تر جرائم کے حوالے سے تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں معطل کر دی جائیں گی، تاہم پی کے کے کی سرگرمیوں کے دوران کیے گئے قتل کے جرائم اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اس کے علاوہ سنہ 2005 سے پہلے کیے گئے بعض ایسے جرائم بھی قانون کے دائرے سے باہر رہیں گے جن کی سزا عمر قید ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ جیل میں قید کردستان ورکرز پارٹی کے رہنما عبداللہ اوجلان اور شمالی عراق میں موجود پی کے کے کے بانی و اعلیٰ سطح کے ارکان اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

کردستان ورکرز پارٹی نے 40 سال سے زائد عرصے تک ترک ریاست کے خلاف مسلح شورش جاری رکھی۔ عبداللہ اوجلان کی اپیل کے بعد تنظیم نے سنہ 2025 میں اپنی تحلیل کا اعلان کیا اور ہتھیار ڈالنے کے عمل کے تحت ایک علامتی تقریب بھی منعقد کی۔

حکومت نواز میڈیا نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کردستان ورکرز پارٹی کے ہتھیار ڈالنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

تاہم اپوزیشن نواز میڈیا نے اس حوالے سے زیادہ محتاط اور شکوک پر مبنی مؤقف اختیار کیا ہے۔ بعض اداروں نے اسے ’دہشت گردی کو رعایتیں دینے‘ کے مترادف قرار دیا اور سوال اٹھایا ہے کہ امن عمل کو حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟

پی کے کے تقریباً چار دہائیوں سے ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ بائیں بازو کے نظریات کے حامی گروہ کا سنگِ بنیاد 1970 کی دہائی میں رکھا گیا تھا اور اس نے ترکی کے اندر کُردوں کے لیے ایک آزاد ریاست بنانے کے مقصد سے حکومت کے خلاف سنہ 1984 میں مسلح جدوجہد شروع کی تھی۔

کُردوں کی اکثریت جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور مغربی آرمینیا میں آباد ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں میں ڈھائی سے تین کروڑ کرُد آباد ہیں۔ انھیں عربوں، فارسیوں اور ترکوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی چوتھی بڑی قوم سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے پاس اپنا کوئی ملک نہیں ہے۔

گذشتہ 80 برسوں میں کُرد متعدد بار اپنے لیے ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن انھیں کبھی کامیابی نہیں ملی۔

کُرد ترکی کی آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ ہیں۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کے دوران ہونے بغاوتوں کے سبب ترکی میں کردوں جیسے نام رکھنے، ان کے لباس پہننے اور یہاں تک کے ان کی زبان بولنے تک پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت کردوں کو ‘پہاڑی تُرک’ کہا جاتا تھا۔

سنہ 1978 میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے عبداللہ اوجلان نے پی کے کے قائم کی تھی۔ سنہ 1984 میں اس تنظیم نے باقاعدہ مسلح لڑائی کا اعلان کردیا، تب سے اب تک اس تنازع میں ترکی، شام اور عراق کے کچھ حصوں میں 40 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

تاہم 1990 کی دہائی میں پی کے کے نے کُردوں کے لیے الگ ریاست کے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

2016 میں پی کے کے کے عسکری ونگ کے سربراہ جمیل بایک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ‘ہم ترکی سے الگ ہو کر کوئی ریاست نہیں کام کرنا چاہتے۔ ہم اس کی سرحدوں میں اپنی زمین پر آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ترکی کا مؤقف ہے کہ پی کے کے ‘ترکی میں ایک علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے پی کے کے کو ترکی، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک نے کالعدم تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article