بلوچستان زرعی کالج (ایگریکلچر کالج) کوئٹہ میں طلبہ کی اسکالرشپ گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے ادا نہ کیے جانے اور مبینہ انتظامی بدانتظامی کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس (بی ایس اے) نے تمام تعلیمی سرگرمیوں اور 5 اگست 2026 سے شروع ہونے والے تمام امتحانات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کے مطابق 2 اگست 2026 کو منعقدہ ایک اہم اجلاس میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (مینگل)، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)، بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں کالج انتظامیہ کی عدم توجہی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں 3 اگست کو طلبہ نے تمام کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج کے مرکزی گیٹ کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیا۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے اسکالرشپس جاری نہ ہونے کے باعث غریب اور مستحق طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ مزید برآں، پرنسپل کی مبینہ مسلسل غیر حاضری اور نااہلی کی وجہ سے ادارہ شدید انتظامی بحران کا شکار ہے۔ متعدد طلبہ کو تاحال متعلقہ شعبوں میں الاٹمنٹ نہیں دی گئی، جبکہ قواعد و ضوابط اور میرٹ کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔
بیان میں نشاندہی کی گئی کہ ہاسٹل میں صفائی کی ناقص صورتحال، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ الائنس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایک مبینہ کرپٹ لابی ادارے کے امور پر اثر انداز ہو رہی ہے اور طلبہ کو ہراساں و بلیک میل کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس نے واضح کیا ہے کہ جب تک تمام جائز مطالبات تسلیم نہیں ہوتے اور زیر التوا اسکالرشپس فوری طور پر جاری نہیں کی جاتیں، بائیکاٹ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تنظیم نے وزیراعلیٰ بلوچستان، سیکریٹری زراعت اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لے کر معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔