خاران :مسلح افراد ہاتھوں متعدد سیکورٹی ہلکار گرفتار، پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں کے ریکارڈ نذرآتش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خاران سے سیکیورٹی کی انتہائی سنگین صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں بلوچ مسلح آزادی پسندوں نے شہر کا کنٹرول سنبھال کر پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانوں پر حملے کیے ہیں اور سی ٹی ڈی تھانے کا ریکارڈ نذرِ آتش کر دیا ہے۔ تاہم اب تک کسی تنظیم کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، رات گئے بڑی تعداد میں بلوچ مسلح آزادی پسند خاران شہر میں داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بلوچ مسلح آزادی پسندوں نے سٹی پولیس تھانے پر مکمل قبضہ کر لیا اور وہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے سرکاری ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلوچ مسلح آزادی پسندوں نے پولیس تھانے کے مختلف حصوں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ سی ٹی ڈی تھانے کے اندر موجود اہم ترین ریکارڈ کو بھی آگ لگا دی۔ رات بھر شہر کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

رپورٹس کے مطابق، خاران شہر کے پرانا گزی روڈ پر فائرنگ کے ایک واقعے میں محمد حسن نامی ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

واضح رہے کہ خاران میں سیکڑوں بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے شہر کا کنٹرول سنبھالنے، ناکہ بندیاں کرنے، سرکاری دفاتر پر قبضے اور سرکاری اسلحہ و دیگر سامان ضبط کرنے کے دعوے پہلے ہی سامنے آ چکے تھے، جس کے بعد ان تازہ ترین اور انتہائی تشویشناک کارروائیوں کی تصدیق ہو رہی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں ان آزادی پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی رپورٹ ہوا ہے۔

خاران میں پیش آنے والے اس بڑے واقعے اور سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے بعد بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں سیکیورٹی کو فوری طور پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور پولیس کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

تاہم، ان واقعات کے حوالے سے سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی مکمل اور باضابطہ تفصیلات یا بیانات جاری نہیں کیے گئے ہیں، اور حملوں کی اصل نوعیت و نقصانات سے متعلق مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article