بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں فائرنگ اور روڈ حادثے کے 3 الگ الگ واقعات میں 4 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ خاران سے ایک نعش برآمدہوئی ہے جسے گولی مار کر قتل کیا گیا ہے ۔
تربت کے علاقے آپسر کولوائی بازار میں فا ئر نگ کے ایک واقعے میں2 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک شخص کو پولیس نے تحویل میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق ایک شہری سے مبینہ طور پر موبائل فون چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت ہوئی، جس کے بعد ہاتھا پائی اور پھر فا ئر نگ کا واقعہ پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فا ئر نگ کے نتیجے میں گزین ولد شمبے (سکنہ کولوائی بازار) اور زیدان ولد ولی داد (سکنہ تجابان) موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ عبدالجلیل (سکنہ حب چوکی) کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس نے لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے سریاب کے علاقے گاہی خان چوک پر دونامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 1 شخص کو قتل اور ایک کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی نعش اور زخمی کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی ۔
مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔
علاوہ ازیں کوئٹہ کے سریاب کے علاقے فیض آباد میں تیز رفتار پانی والے ٹینکر کے ٹکر سے نوجوان ہلاک ہوگیا۔
نعش ہسپتال منتقل کردی گئی جس کی شناخت نصیب اللہ کے نام سے کی گئی ۔
نعش ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی۔
مزید کارروائی سریاب پولیس کررہی ہے۔
پولیس کے مطابق سریاب روڈ پر گاہی خان چوک کے قریب دونامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے علی احمد سکنہ جیکب آباد کو قتل اور نیاز احمد سکنہ شکار پور کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔
دریں اثنا خاران کے علاقے گواش روڈ سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ گواش میں سی پی ای سی روڈ کے ساتھ سرگردان کے علاقے سے ملنے والی لاش کی شناخت حافظ کبیر کے نام سے ہوئی ہے۔
حافظ کبیر کو 18 جولائی کی رات کو اغوا کیا گیا تھا، جب مسلح افراد نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، ان کے بیٹے عبدالحکیم کو قتل کر دیا، اور حافظ کبیر اور دوسرے بیٹے حافظ نوید کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اس واقعے کے بعد، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حافظ کبیر کا تعلق حکومتی حمایت یافتہ گروپ سے تھا۔
اپنے بیان میں، بی ایل ایف نے کہا کہ حافظ کبیر اور ان کے بیٹے حافظ نوید اس کی تحویل میں ہیں اور ان کی قسمت کا فیصلہ ایک "بلوچ نیشنل کورٹ” تفتیش مکمل ہونے کے بعد کرے گی۔
دریں اثنا، بی ایل ایف نے حافظ کبیر کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، BLF نے اپنے آفیشل چینل پر حافظ کبیر کی تصویر پر مشتمل ایک پوسٹر شائع کیا، جس میں کہا گیا کہ اس نے "قومی مجرم حافظ کبیر کو ختم کر دیا ہے۔”
پولیس نے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت حافظ کبیر کے نام سے کی ہے، جب کہ حافظ نوید کے ٹھکانے یا حالت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔