امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے دوران اب تک ایران کے مختلف شہروں میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدرِ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر کی جا رہی ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے مطابق، ان نئے حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔ یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرص کے کنٹینر بردار جہاز ’جے ایف ایس گلیکسی‘ پر حملے کے ردِعمل میں شروع کی گئی ہے۔
سینٹکام نے بتایا کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے، جبکہ آگ لگنے اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ امریکی بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جہازوں پر گذشتہ حملوں کے بعد ایران کے پاس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کرنے کا ایک اور موقع تھا، لیکن اس نے ایک بار پھر ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
اس سے قبل، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز ’اگلے حکم اور امریکی مداخلت کے خاتمے تک‘ بند رہے گی اور کسی بھی جہاز کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر جاری بیان میں امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کی اس تیسری لہر کے دوران ’امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے ہتھیاروں‘ سے ایران کو نشانہ بنایا۔
نشانہ بنائے گئے 140 اہداف میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں اور ساحلی نگرانی کے مقامات اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور مواصلاتی نیٹ ورکس کے تنصیبات شامل ہیں۔
سینٹکام کے مطابق، رواں ہفتے کے دوران کیے گئے تین مرحلوں کے حملوں میں اب تک ایران کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے بندر عباس، سیرک، جاسک، چابہار، کنگان، بندر دیر اور عسلویہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی نشریاتی ادارے نے صوبہ خوزستان کے جنوبی حصے میں واقع گاؤں ’شاہ عبداللہ‘ اور صوبہ بوشہر کی ’دیلم کاؤنٹی‘ کے داخلی راستے پر بھی دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ تاہم، بوشہر گورنریٹ کے ایک عہدیدار کے مطابق، بوشہر، عسلویہ اور دیر شہروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایرانی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ بندر عباس، سیرک اور جاسک میں اس وقت صورتحال پرسکون ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران پر ہونے والے ان تازہ حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو اس کے غلط فیصلوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر سینٹکام کا بیان شیئر کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے لکھا: ’ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ ایران کی ان صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے لیے خطرہ ہیں۔