امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے 2026 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے منگل کے روز نیٹو کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دارالحکومت انقرہ میں استقبال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’امریکہ ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ترکی پر سنہ 2020 کے آخر میں عائد کی گئی ’سی اے اے ٹی ایس اے‘ پابندیاں ختم کر دے گا۔
صدر ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑی مثبت پیش رفت کا بھی عندیہ دیا۔
امریکی صدر کے اس اعلان کو امریکہ اور ترکی کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوغان کی قیادت میں ترکی فوجی لحاظ سے ’بہت مضبوط‘ ہو گیا ہے۔ انھوں نے نیٹو کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اتحاد سے ’بہت مایوس‘ ہیں۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر نیٹو سربراہی اجلاس ترکی میں منعقد نہ ہو رہا ہوتا تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ’انھیں امید ہے کہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے ایف 35 جنگی طیاروں کے معاملے پر ’مثبت فیصلہ‘ سامنے آئے گا۔
اردوغان نے کہا کہ انقرہ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات نے ’ہمیں مثبت طاقت دی ہے‘ اور انھوں نے اس دورے کی اہمیت پر زور دیا۔
ترک صدر نے کہا کہ ترکی ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ’مستحکم بنیادوں‘ پر استوار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ انقرہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے کہا کہ ترکی ایف 35 طیاروں کے معاملے پر امریکہ کی سابقہ یقین دہانیوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور صدر ٹرمپ ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہے ہیں۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو اردوغان نے مزید کہا کہ ’وہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان جاری صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔‘
ترک صدر کے مطابق وہ اور ان کے ’عزیز دوست‘ صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس کو غزہ میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ترکی پر ’سی اے اے ٹی ایس اے‘ یعنی ’امریکہ کے مخالفین سے نمٹنے کے لیے پابندیوں کے قانون‘ کے تحت یہ پابندیاں سنہ 2020 میں اس وقت لگائی گئیں تھیں کہ جب اس نے روس سے فضائی دفاعی نظام خریدا تھا۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ روسی نظام کی خریداری نیٹو کے دفاعی نظام اور امریکی جنگی طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں ملک کے کردار کے بارے میں بات کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انقرہ ’ایران اور اس سے متعلق مسائل کو بخوبی جانتا ہے‘ انھوں نے مزید کہا کہ ترکی نے ایران کے معاملے میں ’بہت موثر‘ مدد فراہم کی ہے۔
امریکی صدر نے ترکی کو ’بہت طاقتور فوجی ملک‘ قرار دیا اور اس ملک اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’وہ جنگ میں جا سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید یہ میری وجہ سے تھا۔‘
ٹرمپ نے ترکی اور امریکہ کے تعلقات کو ’زبردست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
انھوں نے ایران کے ساتھ امریکی محاذ آرائی کے بارے میں کہا: ’یہ جنگ نہیں ہے، یہ ایک فوجی آپریشن ہے، یہ جوہری تخفیف ہے۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انقرہ اور واشنگٹن ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں یکساں نظریہ رکھتے ہیں: ’میں نہیں سمجھتا کہ ترکی بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایران) جوہری ہتھیار رکھے۔ مجھے اس پر پورا یقین ہے۔‘