بلوچستان کے ضلع پنجگور میں تین ماہ قبل جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے 15 سالہ طالب علم سیف جان کو ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پنجگور کے علاقے چتکان سے تعلق رکھنے والے فیض محمد کے 15 سالہ بیٹے سیف جان، جو کہ ایک اسکول کے طالب علم تھے، کو ماہِ رمضان کے دوران ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔
تقریباً تین ماہ تک مسلسل لاپتہ رکھنے کے بعد، 29 جون 2026 کو سیف جان کی گولیوں سے چھلنی لاش پنجگور کے ایئرپورٹ روڈ سے برآمد ہوئی، جسے بے دردی سے وہاں پھینک دیا گیا تھا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصہ اور کہرام مچ گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے آفیشل بیان میں 15 سالہ معصوم طالب علم کے سفاکانہ قتل پر گہری تشویش اور شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ بی وائی سی کا کہنا ہے کہ ایک طرف ریاست بغیر کوئی جرم ثابت کیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پرامن سیاسی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ذریعے عمر قید جیسی سنگین سزائیں سنا رہی ہے، تو دوسری طرف سرعام معصوم بچوں اور طلبہ کو اغوا کر کے قتل کرنے والے مسلح ڈیتھ اسکواڈز اور عناصر کے خلاف کبھی کوئی قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
تنظیم نے کہا کہ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں ماورائے قانون کارروائیوں کو تحفظ حاصل ہے اور پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے ایسے خوفناک ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی بحران اور سنگین ریاستی جبر کا فوری نوٹس لیں۔
بی وائی سی نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے بدترین مظالم، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ان کی پرامن حقوق کی آواز کو نظرانداز کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے۔