دنیا میں باشعور اور باصلاحیت انسانوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ ایسے لوگ اپنی ذہانت، ہنر اور صلاحیتوں سے دنیا کو منور کرتے ہیں۔ بلوچستان بھی ایسے باصلاحیت انسانوں سے خالی نہیں، جو اس جدید دور میں اپنی قوم اور اپنے نظریے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
شاید دنیا کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو، مگر بلوچ قوم جن حالات اور مصائب کا سامنا کر رہی ہے، وہ دنیا کی اکثر اقوام کے تجربے سے مختلف ہیں۔ دنیا کی بہت سی قومیں آزادی، بقا اور شناخت کے ان بنیادی سوالات سے آگے بڑھ چکی ہیں اور آج سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کے ذریعے اپنی قوموں کو مزید مضبوط اور عظیم بنانے میں مصروف ہیں۔ اسی لیے جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد اپنی قوم کو مزید عظیم بنانا ہے۔
اس کی ایک مثال امریکہ کے صدر کا مشہور نعرہ ” Make America Great Again ” ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر قوم کے لیے اپنے ملک کی عظمت اور ترقی سب سے اہم ہوتی ہے۔ امریکہ دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے، جس کی مثال عراق، افغانستان، وینزویلا اور ایران جیسے معاملات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں کامیابی یا ناکامی کی بحث نہیں، بلکہ طاقت کی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے۔ اس کے باوجود وہاں کی قیادت اپنی قوم اور اپنے ملک کو مزید مضبوط بنانے کی بات کرتی ہے۔
انسانی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے آزادی اور انسانی وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی لوگ حقیقی ہیرو کہلاتے ہیں۔ ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کو جدوجہد، حوصلہ اور استقامت کا درس دیتی ہیں۔
چندر شیکھر آزاد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب وہ انگریز فوج کے خلاف لڑ رہے تھے اور دشمن کی طاقت زیادہ ہو گئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو محفوظ راستے سے نکل جانے کا حکم دیا اور آخری گولی اپنے لیے محفوظ رکھی۔ ان کی شہادت کے بعد تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید طاقتور بن گئی، یہاں تک کہ برطانوی راج کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔
میں بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے ایسے ہی ایک کردار، شہید سلیمان عرف شہیک بلوچ کا ذکر کر رہا ہوں، جنہوں نے اپنے شعور، جرات اور کردار سے بلوچستان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
جب ستر کی دہائی کے بعد بلوچ قومی آزادی کی تحریک نے دوبارہ زور پکڑا تو مکران میں واجہ سدو مری، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور ان کے دیگر ساتھی اس جدوجہد کا حصہ بنے۔ انہی ساتھیوں میں شہیک بلوچ بھی شامل تھے۔
شہید سلیمان عرف شہیک بلوچ اپنی ذہانت، صلاحیت اور سادہ مزاجی کی وجہ سے ممتاز شخصیت تھے۔ اگرچہ وہ شہرت کے طلبگار نہیں تھے، مگر ان کا سماجی، سیاسی اور عسکری کردار انتہائی اہم تھا۔ خاموش طبیعت کے مالک ہونے کے باوجود ان کی بصیرت اور فہم بہت گہری تھی، اسی لیے ان کے کردار کو انمول کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اگر گوریلا جنگ کی بات کی جائے تو وہ اس فن میں انتہائی مہارت رکھتے تھے۔ وہ اپنے علاقے میں بہت جلد عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک گوریلا مچھلی کی مانند ہوتا ہے جو پانی میں رہتے تو رندہ ہوتے ہیں۔ شہیک بلوچ بھی اسی انداز میں اپنے علاقے میں عوام کے درمیان رہتے تھے اور عوام کا اعتماد ہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھا۔
اس کی ایک مثال 2013ء کا مشکے کا زلزلہ ہے، جس نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا تھا۔ اس مشکل وقت میں شہیک جان، ڈاکٹر منان جان کے ساتھ مل کر دن رات عوام کی خدمت کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کو حوصلہ دیا، انہیں منظم کیا اور اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ زندگی شروع کرنے کا شعور دیا۔ لوگ اجتماعی طور پر اپنے شہداء کو دفن کرنے، عارضی جھونپڑیاں تعمیر کرنے اور زندگی کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سب عوام کے ان پر اعتماد اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت تھا۔ میرے خیال میں ایک رہنما کے لیے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی۔
ہم پاکستانی فوج کے رویے سے بخوبی واقف ہیں، خصوصاً ایسے مواقع پر جب سیلاب، زلزلہ یا کوئی دوسری قدرتی آفت آتی ہے۔ ہمارے نزدیک ایسے حالات میں بھی یہ ادارہ عوامی خدمت کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اسے ایک پیشہ ور فوج کے بجائے ایک مافیا ہیں۔
مثال کے طور پر، مظفرآباد کشمیر کے زلزلے کے بعد بھی مختلف حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کیے گئے کہ امدادی وسائل میں بدعنوانی ہوئی۔ ان الزامات کے حوالے سے مختلف رپورٹس اور بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے نزدیک فطری آفات بھی اس ادارے کے لیے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کا ایک موقع بن جاتی ہیں۔
مشکے کے زلزلے کے بعد بھی قابض پاکستانی فوج نے امدادی وسائل پر قبضہ کیا اور علاقے میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی۔ آج بھی وہ علاقہ بڑی حد تک فوجی نگرانی میں ہے اور سیکڑوں خاندان نقل مکانی کر کے حب، کوئٹہ، خضدار اور سندھ کے مختلف علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
ایسے مشکل حالات میں بھی شہیک بلوچ عوام کا سہارا بنے رہے۔ وہ لوگوں کو حوصلہ دیتے رہے اور ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ اسی دوران ان کے والد کا انتقال ہوا۔ بلوچ روایات کے مطابق وہ کچھ عرصہ اپنے گھر میں رہے، لیکن اپنے ساتھیوں کو رات کے وقت گھروں میں ٹھہرانے کے بجائے محفوظ مقامات پر رکھتے تھے۔
پاکستانی فوج ان کی اہمیت سے بخوبی واقف تھی، اس لیے اس نے اس موقع کو غنیمت جان کر پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ اگر وہ پہاڑوں کا رخ کرتے تو شاید محفوظ نکل سکتے تھے، مگر انہوں نے شہید میر مہراب خان اور شہید بلوچ خان کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنے ساتھیوں کو محفوظ راستے سے نکل جانے کا حکم دیا، جبکہ خود چند جانثار ساتھیوں کے ساتھ محاذ پر ڈٹے رہے۔ جدید اسلحے سے لیس فوج کے مقابلے میں انہوں نے روایتی وسائل کے ساتھ بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جب وہ شدید زخمی ہوئے تو گرفتاری کے بجائے آخری گولی اپنے لیے منتخب کی۔ اس سے پہلے انہوں نے قوم کے نام ایک پیغام بھی بھیجا کہ اس جدوجہد کو کامیاب بنانا ہوگا اور اس راہ میں سروں کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں۔
اس معرکے میں استاد سفر جان، ذاکر بلوچ، سالونک، فرہاد جان، شہید بالاچ ،شہید علم خان شہید خدا نظر شہید گاجی خان شہید فیصل شہید شہید انیس اور شہید ظہیر اور شہید رفیق جان مہمان تھے انہوں نے بلوچ روایات کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اس سرزمین کے امر کردار بن گئے۔
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو شہید منان جان بھی وطن کی خاطر امر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ان کے بھائی شہید شاہ میر جان اور شہیک جان کے جوانسال فرزند کینگی بھی اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کر چکے ہیں۔ تاہم اس تحریک کے وارث صرف یہی افراد نہیں، بلکہ بے شمار نوجوان آج بھی اس جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔
وہ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ قوموں کی آزادی وقت کی ضرورت ہے اور ہر قوم کو اپنی آزادی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ بلوچ قوم بھی اپنی کھوئی ہوئی آزادی کی بحالی کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ یہی جدوجہد اپنی ذات میں ایک عظیم نام رکھتی ہے، اس لیے میں اسے کسی دوسری تحریک کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
سلیمان جان عرف شہیک! آپ کا پیغام اپنی قوم تک ضرور پہنچا ہے۔ لوگوں نے آپ کی قربانی اور آپ کی بات کو سمجھ لیا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر جذباتیت اور خودنمائی بھی نظر آتی ہے، لیکن وہ دن دور نہیں سیاسی شعور دوبارہ اس جدوجہد میں خود نمائی اور جذبات کو ختم کرکے صحیح سمت میں لے جائے گا، منزل مزید قریب ہوگی اور دشمن ناکامی کا بوجھ اٹھا کر بلوچستان سے واپس جانے پر مجبور ہوگا۔
***