امریکہ میں قرارداد منظور، ٹرمپ ایران پر حملے کے لیے اب کانگریس کی اجازت کے پابند

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے ایک قرار داد منظور کر لی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ روکیں یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔

منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 50 ارکان نے قرار داد کے حق میں اور 48 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ رائے شماری میں چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں میں جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

یہی قرار داد جون میں امریکی ایوان نمائندگان سے بھی منظور کی گئی تھی، جہاں چار ریپبلکن ارکان نے تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے اسے منظور کیا۔

تاہم یہ قرار داد زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے کیونکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود اسے صدر ٹرمپ کے پاس غور کے لیے نہیں بھیجا جائے گا اور نہ ہی اسے قانونی حیثیت حاصل ہے۔

یہ ووٹنگ اس حوالے سے اہم ہے کہ 1973 کے وار پاورز ریزولوشن (جنگ سے متعلق اختیار کا قانون) کے نفاذ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو فوجی کارروائی ختم کرنے کی ہدایت دینے والی متفقہ قرار داد منظور کی ہے۔

اس قرار داد کی منظوری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے وائٹ ہاؤس پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سات اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایسی کوئی صورتحال نہیں رہی جس سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ضرورت ہو۔

اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ قرارداد صرف اس لیے منظور ہو سکی کیونکہ دو ریپبلکن سینیٹرز مچ میک کونل اور ڈیو میک کارمک اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

وفاقی قانون کے مطابق 60 دن سے زیادہ فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے 28 فروری کو شروع ہوئے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اپریل کی جنگ بندی نے اس مدت کو دوبارہ شمار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس قومی سلامتی کی بنیاد پر اس مدت میں مزید 30 دن کی توسیع بھی کر سکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article