امریکی وزیر خارجہ کی سوڈان کا دورہ ،اسرائیل سے تعلقات بحالی میں پیشرفت

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک نے امریکی وزیر خارجہ پر واضح کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اسرائیل کے دورے کے بعد سوڈان پہنچے اور یہ امریکا اور سوڈان کے درمیان ایک عرصے میں پہلی براہ راست سرکاری پرواز ہے۔

پومپیو، امریکا اور سوڈان کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پہنچے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک اور حکمران کونسل کے سربراہ عبدالفتح البرہان سے ملاقات کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ سوڈان میں اقتدار کی جمہوری طریقے سے منتقلی نسلوں بعد میسر آنے والا بہترین موقع ہے۔

سوڈان اس وقت معاشی بحران سے دوچار ہے اور سوڈانی حکام مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکا انہیں دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکالے کیونکہ اسی وجہ سے وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے عالمی برادری سے قرض نہیں لے سکتے۔

پومپیو کے حالیہ دورے کے بعد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے تعلقات بھی بحال ہو گئے ہیں اور اب مزید عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کا امکان ہے۔

فروری میں برہان نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے یوگینڈا میں ملاقات کی تھی جس پر سوڈان کے ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

اس احتجاج کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ سوڈانی وزیر اعظم نے وضاحت دی کہ سوڈان اور اسرائیل کے تعلقات میں فوری بحالی کا کوئی امکان نہیں اور اس بیان کے بعد سوڈان پر اسرائیلی طیارے پرواز کرنے لگے تھے۔

سوڈان میں اسرائیل سے تعلقات کو حساس معاملہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ سابق حکمرانوں کے دور میں سوڈان کے اسرائیل سے کشیدہ تعلقات رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے سوڈانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے فیصلے کو دلیرانہ اور بے باک اقدام قرار دیا تھا جس کے بعد انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔

مائیک پیومپیو سے ملاقات میں عبداللہ ہمدوک نے کہا کہ عبوری حکومت کے پاس اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا مینڈیٹ نہیں ہے اور اس معاملے کو اس عمل کی تکمیل کے بعد حل کیا جائے گا۔

حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے حکمران کونسل اور حکومت کا قیام ہونا ابھی باقی ہے۔

سوڈانی حکومت کے ترجمان فیصل صالح نے کہا کہ وزیر اعظم نے امریکی انتظامیہ اور عہدیداران سے ملاقات کی تاکہ سوڈان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے معاملے کو اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے معاملے سے بالکل الگ رکھا جا سکے۔

یاد رہے کہ دہشت گرد گروپوں کی معاونت اور دارفر میں خانہ جنگی کے سبب امریکا نے 2017 میں سوڈان پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

Share This Article
Leave a Comment