فیس لیس ٹرائلز انصاف کا قتل اور بے شرمی پر مبنی کارروائیاں ہیں،ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ‘اپنے ایک جاری ویڈیو بیان میں فیس لیس ٹرائلز کے نئے نظام اور تنظیم کے رہنماؤں کی مسلسل حراست پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان عدالتی کارروائیوں کو "بے شرمی پر مبنی ٹرائلز” قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی وائی سی کے محبوس رہنما اس ناانصافی کے خلاف گزشتہ نو دنوں سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اس نظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں ملزم، ان کے وکلا اور ان کے اہل خانہ ریاستی استغاثہ (Prosecutors)، گواہوں یا پیش کیے جانے والے شواہد کو دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہیں گواہوں پر جرح کرنے یا شواہد کو چیلنج کرنے کے موقع سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایسے نظام کے تحت فیصلے یکطرفہ طور پر کیے جا سکتے ہیں، اور بی وائی سی کے اسیر رہنما اسی ناانصافی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ریاست کی نیت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر ہم گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بلوچستان کی صورتحال کو دیکھیں تو جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ سیکیورٹی کے نام پر چھاپے، آپریشنز، لوٹ مار، گھروں کو جلانا اور لوگوں کی تذلیل کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر بی وائی سی کے رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر جیل میں بند کیا گیا ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ بی وائی سی کے نعرے، مقاصد اور اہداف اتنے پیچیدہ یا مشکل نہیں ہیں کہ با شعور لوگ انہیں نہ سمجھ سکیں۔ وہ سادہ اور واضح ہیں، بلوچ نسل کشی بند کرو، وقار کے ساتھ جینے کے حق کو یقینی بناؤ، اور ریاست کو اپنے قوانین، آئین اور قانونی اصولوں کا احترام کرنے پر مجبور کرو۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان نعروں کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بی وائی سی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، ان کے خلاف من گھڑت ایف آئی آرز درج کی گئیں، جھوٹے الزامات لگائے گئے اور میڈیا کے ذریعے گمراہ کن بیانیے کو فروغ دیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ بلوچ نسل کشی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک پورا نظام تشکیل دیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جیل اور عدالت میں بی وائی سی رہنماؤں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ صرف ہمارے ساتھیوں کو سزا دینے کی کوشش نہیں ہے، بلکہ خود اس عدالتی نظام کو مٹی میں گھسیٹا جا رہا ہے اور اسے شدید خراب کیا جا رہا ہے۔ ایک پراسیکیوٹر جنرل، جس سے جج کے عہدے پر ترقی کا وعدہ کیا گیا تھا، نے آ کر موجودہ جج پر دباؤ ڈالا اور مطالبہ کیا کہ ان کیسز کو دس دنوں کے اندر ختم کیا جائے۔ ایسے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں کسی کو گواہوں سے سوال کرنے یا شواہد کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، پھر بھی ان کارروائیوں کو ‘ویڈیو ٹرائلز’ یا ‘فیس لیس ٹرائلز’ کا نام دیا جا رہا ہے۔

مرکزی رہنما نے بتایا کہ اسیر بی وائی سی رہنماؤں کا احتجاج جاری ہے، جبکہ تنظیم نے ان فیس لیس کارروائیوں کے خلاف تین روزہ آن لائن احتجاجی مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ بی وائی سی رہنما ان فیس لیس ٹرائلز کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے پاس یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کس وکیل کے ذریعے اپنے کیسز کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کی عدم موجودگی میں کارروائیاں جاری رکھی گئیں اور وکلا کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔

ایک کیس کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں پیر کے روز فیصلہ متوقع ہے، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسے دباؤ بڑھانے کے حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر مرکزی ملزم پہلے ہی بری ہو چکا ہے تو دوسروں کو کیسے سزا دی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ جو لوگ ان اقدامات میں ملوث ہیں وہ اپنے پیشے اور قانون دونوں کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں اور ان اداروں کو تباہ کر رہے ہیں جن کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ہم بلوچ نسل کشی کے خلاف ہیں، اور ہم اس پر بات کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہماری زندگیوں اور ہمارے وقار کا سوال ہے۔ جنہیں ہمارے وجود سے مسئلہ ہے، اور جو ہمارے بلوچ نسل کشی کا مسئلہ اٹھانے پر پریشان ہیں، وہی آج یہ اقدامات کر رہے ہیں۔

بیان کے آخر میں انہوں نے پاکستان بھر کے تمام سول سوسائٹی گروپس پر زور دیا کہ وہ ان کیسز اور فیس لیس ٹرائلز کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انہوں نے صحافیوں، ججوں، وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں لکھیں اور بولیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ خاموش رہے اور انصاف کا ساتھ دینے میں ناکام رہے، تو آپ بھی اس جرم میں برابر کے شریک بن جائیں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article