بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نے ایک ویڈیو پیغام میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری، عدالتی کارروائی اور غیر شفاف ٹرائل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی حلقوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار ہوئے 14 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جبکہ شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔ پیغام میں الزام عائد کیا گیا کہ دورانِ حراست انہیں مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ ناانصافیوں کے خلاف جیل کے اندر احتجاج شروع کر رکھا ہے، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں علامتی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ویڈیو پیغام میں موجودہ عدالتی طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقدمے کی کارروائی کھلی عدالت کے بجائے ورچوئل عدالت کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس سے عدالتی عمل کی شفافیت اور عوامی رسائی متاثر ہو رہی ہے۔
پیغام میں مطالبہ کیا گیا کہ آن لائن اور جیل ٹرائل کا خاتمہ کرکے کھلی عدالت میں سماعت بحال کی جائے۔مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کی تبدیلی کی درخواست پر فوری کارروائی کی جائے اور ایک غیر جانبدار جج مقرر کیا جائے۔جج کی تبدیلی اور کھلی عدالت میں سماعت شروع ہونے تک مقدمے کی کارروائی معطل کی جائے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، سماجی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ عدالتی شفافیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔