وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری کو آئینِ پاکستان، ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق شفاف، منصفانہ اور کھلی سماعت کا حق حاصل ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کو چودہ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ان کے مقدمات کی سماعت کے طریقۂ کار کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقدمات پہلے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیرِ سماعت رہے، بعد ازاں جیل ٹرائل کے ذریعے کارروائی کی گئی، جبکہ اب سماعتیں ویڈیو لنک یا ’’فیس لیس کورٹ سسٹم‘‘ کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ انصاف کے تقاضے صرف فیصلے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ عدالتی عمل کا شفاف، غیر جانبدار اور عوامی اعتماد کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے انتظامات جن سے ملزمان، ان کے وکلاء اور عدالتی کارروائی کے درمیان مؤثر رابطہ محدود ہو، منصفانہ ٹرائل کے حق کے حوالے سے خدشات کو جنم دے سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام قانونی تقاضوں اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر زیر حراست رہنماوں کی جیل ٹرائل اور ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت نے عدالتی کارروائی کی شفافیت اور عوامی نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں، جن کا ازالہ قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنمائوں کے مقدمات کی سماعت ایسے طریقۂ کار کے تحت کی جائے جو شفافیت، منصفانہ ٹرائل اور قانونی حقوق کے تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہو۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست رہنماوں کو اپنے وکلاء تک مؤثر رسائی، اہلِ خانہ سے رابطے اور اپنے دفاع کی تیاری کے لیے تمام قانونی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عدالتی عمل پر عوامی اعتماد برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی نہ صرف منصفانہ ہو بلکہ منصفانہ دکھائی بھی دے، اور تمام فریقین کے آئینی و قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔