بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ڈھونگ عدالتی کارروائی کے ذریعے سزا دینے کی ریاستی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ریاستِ پاکستان ایک فرضی عدالتی عمل کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام بھی فوجی حکام کے تابع محض ایک کٹھ پتلی ہے، ماہ رنگ بلوچ اور ان کے رفقا کے مقدمات کی سماعت ہدا جیل (شال) میں قائم غیر منصفانہ ’فیس لیس کورٹ‘ (Faceless Court) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو کہ عدالتی انصاف کے نام پر ریاست کا ایک بھونڈا مذاق ہے۔
ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ، بیبگر بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ پر 51 فرضی مقدمات قائم کیے گئے، جو ان کی پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔ ان رہنماؤں کو 22 مارچ 2025 کو گرفتار کیا گیا تھا اور آج (14 جون) انھیں جیل میں بند ہوئے ایک سال، دو مہینے اور 23 دن ہو چکے ہیں۔ یہ گرفتاریاں بلوچ قومی حقوق سے ریاستِ پاکستان کے مسلسل انکار اور جبر و استبداد کے تسلسل کا حصہ ہیں۔ بلوچ سیاسی کارکنان نے بدترین حالات اور مسلسل ریاستی مظالم کے باوجود پرامن اور سیاسی راستے کا انتخاب کیا ہے، لیکن ریاست اپنے جابرانہ نظام کے بل بوتے پر تمام اداروں کو بلوچ قوم کی سیاسی آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
بی این ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں انصاف کو یقینی بنانے اور طاقتور قوتوں کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں، لیکن پاکستان نے انصاف کے نام پر ’فیس لیس کورٹ‘ جیسا تماشا کھڑا کر رکھا ہے۔ اس کالے قانون کے تحت ملزمان سے جج، وکلا، گواہان اور تفتیشی افسران تک کے نام اور شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے۔ اس غیر آئینی عمل کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ، ان کے ساتھیوں اور وکلا کا احتجاج بالکل برحق ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی حکام کو ریاستی اداروں کو بطورِ آلۂ جبر استعمال کرنے سے روکیں۔ بی وائی سی کے اسیر رہنما دہشت گرد نہیں بلکہ پرامن سیاسی کارکنان ہیں، جنھیں ریاست پاکستان لاقانونیت، ناانصافی اور انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
انھوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچ قوم کی نظر میں پاکستان بطورِ ریاست اپنی اخلاقی ساکھ کھو چکا ہے۔ ہمیں عدالتوں سمیت پاکستان کے کسی بھی ادارے سے کوئی امید نہیں ہے، کیونکہ بلوچستان میں تمام ادارے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہیں اور اسی کے ڈکٹیشن پر کام کرتے ہیں۔ ریاست کی پالیسیوں میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ وہ بلوچ نسل کشی کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ ہمیں شدید خدشہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ بھی وہی غیر انسانی سلوک دہرایا جائے گا جو ماضی میں دیگر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے سیاسی و انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بلوچ قوم بین الاقوامی برادری سے فوری اور موثر مداخلت کی اپیل کرتی ہے۔